طویل پیدل سفرکے بعد سعودی ’یوم تاسیس‘ میں شرکت کرنے والے عمانی مسافر کے تاثرات

سفرو سیاحت میں دلچسپی رکھنے والے عمانی بحیت العمری نے تقریبا دو ماہ پیدل سفر کیا۔ اس دوران وہ یمن سے گذر کرمملکت میں داخل ہوئے۔ وہ سعودی عرب کے یوم تاسیس کی تقریبات میں شرکت کے بعد عمرہ اور پھر کی فریضہ حج کی سعادت حاصل کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے 22 فروری کو ہونے والے ’یوم تاسیس‘ کی خوشی نہ صرف سعودی شہری منا رہے ہیں بلکہ دوسرے خلیجی ممالک کے شہری بھی اس جشن میں اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔

بحرینی شہریوں کے سعودی عرب کے قومی دن کے موقعے پر’منامہ‘ سے ریاض کے پیدل سفر کے بعد ایک عمانی شہری کے ایسے ہی یادگار سفر کا احوال سامنے آیا ہے۔

سلطنت عمان کے بخیت العمری نے اپنے اس سفر کے بارے میں بتایا کہ ان کا سعودی عرب کی طرف پیدل سفر کرنا اور مملکت کے یوم تاسیس میں شرکت کرنا ان کی زندگی کا بہترین واقعہ اور ایک اعزاز ہے۔

العمری نے کہا کہ انہوں نے یہ سفر سعودی عرب کے یوم تاسیس سے 52 روز قبل شروع کیا۔ ان کے پیدل سفر کا آغاز صلالہ میں واقع سلطان قابوس کلچرل سینٹر سے ہوا۔ پیدل سفر میں انہوں نے جمہوریہ یمن کو عبور کیا اور الودیعہ گذرگاہ سے وہ سعودی عرب داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ’الشرورہ‘ گورنری میں ان کا استقبال کیا گیا۔ وہاں سے ہم عسیر پہنچے اور الباحہ سے گذرتے ہوئے مکہ معظمہ میں پہنچ گئے۔

سفر و سیاحت کا دیوانہ

بحیت العمری نے مزید کہا کہ "میں ایک 58 سالہ عمانی مسافر ہوں اور میں نے اس سال کے شروع میں پیدل سفرکے بارے میں سوچنا شروع کیا تھا کہ ’یوم تاسیس‘ کے موقع پر سعودی عرب پہنچوں گا اور حج کی ادائیگی کے لیے مکہ تک پیدل راستہ مکمل کروں گا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ خیال کھیلوں کی ٹیم بنانے کے بعد پیدا ہوا۔ ہم نے "سدح واکنگ اینڈ ایڈونچر ٹیم" کے نام سے ایک گروپ بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "عمانی فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد میں نے ایک مسافر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرنے کا انتخاب کیا۔ میں نے عمان میں صلالہ کے راستےسفر کا فیصلہ کیا۔ وہاں سے یمن، صحرا کی پٹی، پھر سعودی عرب پہنچا۔ میں نے یہ راستہ اس لیے اختیار کیا تھا کیونکہ پرانے وقتوں میں عمانی حجاج کرام اسی راسطے سے حج کرنے حجاز مقدس جاتے تھے

یہ مشکلات سے بھرپور ایک سفر ہوتا تھا جس میں عازمین حج عمان سےنکل کریمن کی وادی حضرموت میں پہنچتے، وہاں سے تمیم، پھر سعودی عرب کی الودیعہ کراسنگ، وہاں سے نجران اور آخر میں اس راستے سے چلتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچتے تھے۔

العمری نے کہا کہ جب میں نے وزارت ثقافت امور نوجوانان سے اس سفر کے لیے اجازت چاہی تو مجھ سے اس سفر کے اغراض ومقاصد کے بارے میں پوچھا گیا۔ میں نے کہا کہ میں اس راستے پر سفر کرنا چاہتا ہوں جس پر ہمارے آباؤاجداد نے بار بار حج کا سفر کیا۔

عمانی مسافر کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ سفربہت معلومات افزاء رہا۔ مجھے کئی تاریخی مقامات اور گذرے زمانوں کے شہروں کو دیکھنے اور اس دور کے کلچر کو محسوس کرنے کا موقع ملا۔ہمیں ہر جگہ سکیورٹی حکام کی طرف سے تعاون فراہم کیا گیا۔ سعودی عرب کے علاقوں شرورہ نجران اور دوسرے مقامات پر ہمارا والہانہ استقبال ہوا۔

ایک سوال کے جواب میں العمری نے کہا کہ میں نے اس سفر کا آغاز تقریبا دو ماہ قبل اس لیے شروع کیا تاکہ میں سعودی عرب کے یوم تاسیس میں شرکت کرسکوں۔ اس کے بعد عمرہ کی سعادت حاصل کروں گا اور حج کے بعد وطن واپس آجاؤں گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں