الاخوان کیلئے ترکیہ میں موجود رہنماؤں سے ہدایات لینا ختم ہوجائیگا: ترک ماہر تعلیم

گروپ کیخلاف ترکیہ کے نئے اقدامات متوقع: بین الاقوامی تعلقات کے ماہر عبداللہ قاران کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ نے چند روز قبل الاخوان المسلمون کے قائم مقام رہنما محمود حسین سے اپنی شہریت واپس لینے کا فیصلہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی مصر سے واپسی کے بعد کیا تھا۔ ایردوان نے یہ دورہ انقرہ اور قاہرہ کے درمیان تقریباً 11 سال تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد کیا تھا۔ کیا ترک حکام اس گروپ کے خلاف مزید اقدامات کریں گے؟

ترکیہ کی ایک یونیورسٹی میں کام کرنے والے بین الاقوامی تعلقات کے ماہر نے کہا ہے کہ انقرہ ترکیہ میں سرگرم "گروپ" کے خلاف مزید اقدامات کرتا رہے گا۔ ترکیہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر عبداللہ قاران نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ترکیہ الاخوان کے رہنماؤں کو اپنی سرزمین پر رہنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وہ وقت جب تنظیم کے رہنما ہدایات جاری کرکے ترکیہ کی سرزمین سے مصر میں تنظیم کے ارکان کی رہنمائی کرتے تھے اب باقی نہیں رہے گا۔

ایردوان مصر میں السیسی کے ساتھ
ایردوان مصر میں السیسی کے ساتھ

انہوں نے مزید کہا کہ مصر اور ترکیہ ایردوان کے دورہ قاہرہ کے بعد دہشت گردی اور سلامتی کے امور پر معلومات کا تبادلہ کریں گے اور اب سے ترکیہ ایک ایسا محفوظ زون نہیں رہے گا جس میں الاخوان المسلمون کے ارکان آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے۔ ترکیہ الاخوان المسلمون کی حمایت ختم کر دے گا لیکن اس گروپ کو "دہشت گرد" تنظیم کے طور پر شمار نہیں کرے گا۔ انقرہ اس گروپ کو قاہرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ الاخوان کے ساتھ اپنے تعلقات مکمل طور پر منقطع نہ بھی کرے لیکن اس تنظیم کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی محدود کر دے گا۔ انقرہ نے گزشتہ سال سے ہی ایسا کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں