امارات کا مصری جزیرے 'راس الحکمہ' میں سرمایہ کاری کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر اور متحدہ عرب امارات نے جمعہ کے روز ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت امارات مصر کے ساحلی شہر سکندریہ کے مغرب میں جزیرہ نما راس الحکمہ کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرے گا۔

مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سرمیایہ کاری منصوبوں کے لیے تعاون کے ذمرے میں ایک بڑا منصوبہ ہو گا۔ مصری وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی کے مطابق اس منصوبے سے مصر کو 150 بلین ڈالر حاصل ہوں گے۔

جمعہ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نے بتایا ' متحدہ عرب امارات اگلے دو ماہ کے دوران مصر میں 35 بلین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے انداز میں سرمایہ کاری کرے گا۔'اس کے نتیجے میں مصر میں جاری زر مبادلہ کے بحران کو کم کرنے مدد ملے گی۔'

واضح رہے مصر ان دنوں معاشی بھران میں گھرا ہوا ہے اور 'آئی ایم ایف ' سے قرضے لے رہا ہے۔ امارات کی اس بڑی سرمایہ کاری سے مصر غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی مین آسانی طرف آسکے گا۔

دوسری جانب امارات کے خود مختار فنڈ کا اس سلسلے میں کہنا ہے اس کی طرف سے 24 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری بحیرہ روم کے ساحل پر سکندریہ نزدیک واقع راس الحکمہ نامی جزیرے میں جائے گی۔

ایک پریس ریلیز کے مطابق، بقیہ 11 ارب ڈالرذخائر کی رقم مصر بھر میں دیگر اہم منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے کام آئے گی۔ اس سرمایہ کاری منصوبے سے مصر کی اقتصادی ترقی اور ترقی میں مدد ملے گی۔

بتایا گیا ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باعث میں اگلے ہفتے فوری طور پر مصر کو 15 ارب ڈالر مل جائیں گے۔ یہ پہلی قسط تصور ہو گی۔ جبکہ دوسری قسط 20 ارب ڈالر کی رقم اگلے دو ماہ کے دوران مصر کو ملے گی۔

وزیر اعظم مصر کے مطابق ' راس الحکمہ منصوبہ اس شہر کو مکمل طور پر ریزارٹ شہر کی صورت بنا دے گا۔اس میں ایک ائیر پورٹ بھی امارات قائم کرے اور چلائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں