طالبان حکام کی طرف سے ایک اور سزا یافتہ قاتل کو سرِعام گولیوں سے سزائے موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حکام نے بتایا کہ طالبان حکام نے پیر کے روز ایک سپورٹس سٹیڈیم میں ایک مجرم کو گولی مار کر سرِعام سزائے موت دے دی جو افغانستان میں چند دنوں میں تیسری سزائے موت ہے۔

سپریم کورٹ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شخص کو -- جو جنوری 2022 میں چاقو سے قتل کا مجرم پایا گیا -- کو شمالی شبرغان شہر میں طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط شدہ وارنٹ پر سزائے موت دے دی گئی۔

بیان میں مجرم کی شناخت نذر محمد کے طور پر کی گئی اور کہا گیا ہے کہ اس کے کیس کی "بخوبی اور بار بار جانچ کی گئی۔"

ایک مقامی صوبائی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ قاتل کو مقتول کے خاندان -- بشمول خواتین اور بچوں -- اور ساتھ ہی سٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں کے سامنے پانچ بار گولی مار دی گئی۔

اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سے موت کی مٹھی بھر سزائیں دی گئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے دو دیگر افراد کو مشرقی غزنی شہر میں پشت پر متعدد گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کے موت کے وارنٹ بھی اخوندزادہ کے دستخط شدہ تھے۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کی واپسی کے بعد سے اب تک پانچ مرتبہ موت کی سزائیں دی گئی ہیں۔

جسمانی سزائیں -- بنیادی طور پر کوڑے -- البتہ عام رہے ہیں اور چوری، زنا اور شراب نوشی سمیت دیگر جرائم کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ہفتے طالبان حکومت کی سزائے موت کی پالیسی کو "انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔

اس نے ایک بیان میں کہا، "سرعام پھانسی دینا سزائے موت کے موروثی ظلم میں اضافہ کرتا ہے۔"

امن و امان طالبان کے شدید نظریئے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جو 1989 میں افغانستان سے سوویت افواج کے انخلاء کے بعد خانہ جنگی کے انتشار سے ابھرا۔

1996 سے 2001 کے ان کے پہلے دورِ حکومت میں سرِعام سزائے موت عام تھی۔

اس دور کی سب سے زیادہ بدنامِ زمانہ تصاویر میں سے ایک 1999 میں کابل کے ایک اسٹیڈیم میں برقع پوش خاتون کی سزائے موت دی تھی۔ اس پر اس کے شوہر کے قتل کا الزام تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں