فلسطین اسرائیل تنازع

حماس اسرائیلی جنگ بندی معاہدہ 4 مارچ سے ہو سکتا ہے: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس اسرائیلی جنگ کے حوالے سے اچھی خبر آنے کی بات اب امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی کر دی یے۔ صدر جوبائیڈن نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے تک حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو جائے گی۔

امریکی صدر نے یہ بات پیر کے روز نیو یارک میں کہی ہے۔ ان سے پہلے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان بھی تقریباً یہی بات کر چکے ہیں۔ مگر اپب امریکی صدر نے خود کہہ ڈالی ہے۔ امریکی صدر نے اس سلسلے میں جنگ بندی شورع ہونے کی تاریخ یعنی 4 مارچ بھی بتادی ہے، جس سے صاف لگتا ہے کہ دونوں اطراف شرائط کے بارے میں قبولیت ہو چکی ہے۔

واضح رہے اس سے قبل قومی سلامتی کے امریکی مشیر جیک سلیوان نے اس امکانی معاہدے کے بارے میں پر امیدی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'یہ معاہدہ اب قریب ہی ہو سکتا ہے۔ '

تقریباً پانچ ماہ پر پھیلی اس جنگ میں اب تک روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والی جنگ کے دو برسوں کی ہلاکتوں کے مقابلے میں تین گنا فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

جنگ سات اکتوبر سے جاری ہے ۔جب فلسطینی تحریک مزاحمت نے کئی دہائیوں پر پھیلے اسرائیلی قبضے کے خلاف ردعمل کے طور پر ایک بڑا وار کیا تھا ۔ بلا شبہ یہ فلسطینی عربوں ہی نہیں عرب دنیا کی تاریخ کے ساتھ ساتھ خود اسرائیلی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا۔ خود اسرائیلی سکیورٹی سے متعلق اداروں نے حماس کی اس کارورائی کوروکنے میں ناکامی تسلیم کی تھی۔

حماس کا یہ حملہ ایک دن کا تھا مگر اس کے بعد اسرائیل قریب قریب پانچ ماہ سے حماس اور پوری فلسطینی آبادی کو انتقام کی زد میں رکھے ہوئے ہے اب تک اس دوران 30 ہزار فلسطینی قتل ہو چکے اور 23 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ لیکن اب بھی اسرائیل کو حماس کی مزاحمت کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں