فلسطین پر اسرائیلی قبضہ غیر قانونی قرار دیا جائے: عرب ممالک اور ترکیہ کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عرب ممالک اور ترکیہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بارے میں جاری سماعت کے دوران عدالت انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ کیونکہ یہ ناجائز قبضہ ہی خطے میں امن کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے۔

عرب ملکوں اور ترکیہ کی طرف سے یہ مطالبہ عدالتی سماعت کے آخری روز سامنے آیا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے چھ دن مسلسل سماعت کی ہے، اس دوران 50ملکوں اور 3 بین الاقوامی تنظیموں نے عدالت انصاف کے سامنے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خلاف فیصلہ دینے کے بارے میں اپنا موقف پیش کیا۔

یہ عدالتی کارروائی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے درخواست پر سماعت کی گئی ہے۔ جنرل اسمبلی نے کی طرف سے یہ درخواست 2022 میں بین الاقوامی عدالت سے کی تھی۔ یہ فیصلہ عدالتی سفارشاتی انداز کا کو گا ۔ اس پر عمل درآمد کرنا لازمی نہیں ہو گا۔

اسرائیل کے فلسطینی پر قبضے کے بارے میں یہ سماعت بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس روز اختتام کو پہنچی ہے جب اسی عدالت نے ٹھیک ایک ماہ پہلے جنوبی افریقہ کی اسرائیلی نسل کشی کے خلاف درخواست پر ایک فیصلہ دیا تھا۔

بین الاقوامی عدالت انصاف نے ٹھیک ایک ماہ قبل اسرائیل کو حکم دیا تھاکہ اپنی فوج کو اپنے دائرہ کار کے اندر نسل کشی والے اقدامات سے روکے۔ خیال رہے اب تک غزہ میں اسرئیلی فوج 30000 فلسطینیوں کو قتل کر چکی ہے۔

ترکیہ کے نائب وزیر خارجہ احمد یلداز نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے جج حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ' خطے میں بدامنی کی جڑ فلسطین پراسرائیلی قبضہ ہے۔'

نائب وزیر خارجہ نے کہا ' سات اکتوبر سے پیدا شدہ صورت حال کی وجہ بھی یہ بنی ہے کہ 'اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کی جڑ کو نہیں دیکھا گیا۔ جب تک اسے ختم نہ کیا جائے گا علاقے میں امن نہیں ہو سکتا ہے۔امن کی راہ میں یہ اصل رکاوٹ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کی عدالت اس قبضے کو غیر قانونی قرار دے۔'

اس بارے میں اسرائیلی موقف یہ ہے کہ اگر عدالت نے اس معاملے میں مداخلت کی تو یہ تصدام کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کے نزدیک عدالت کے سامنے جن سوالوں کو اٹھایا گیا ہے وہ متعصبانہ ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے اپنے نمائندے کے ذریعے پڑھے گئے بیان میں کہا ہے ' فلسطین پر اسرائیلی قبضہ انصاف کی توہین ہے۔'ان ہوں نے بھی مطالبہ کیا کہ اس قبضے کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور کسی ابہام کے بغیر اس قبضے کے فریقوں کے لیے قانونی مضمرات بھی فیصلے میں شامل کیے جائیں۔ خصوصاً جو اس غیر قانونی قبضے کی صورت حال سے نکلنے کے لیے تعاون کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ '

فلسطینی نمائندے نے پچھلے ہفتے بین الاقوامی عدالت انساف سے مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور دوریاستی حل تک پہنچنے کے لیے رہنمائی کی جائے کیونکہ کئی دہائیوں پر پھیلے اس مسئلے نے ہی غزہ کی موجودہ صورت حال کو جنم دیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے فاضل جج حضرات ان سماعتوں کے بعد اپنی رائے ظاہر کرنے میں اندازاًچھ ماہ لے سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں