بحیرۂ احمر کی یمنی بندرگاہ کے قریب جنگی جہاز پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی فرم ایمبرے نے کہا کہ اسے یمن کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہ حدیدہ سے تقریباً 50 سمندری میل مغرب میں منگل کو ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

ایمبرے نے ایک مشاورتی نوٹ میں مزید کہا کہ ایک تجارتی جہاز نے اطلاع دی کہ ایک جنگی جہاز "فائرنگ" کر رہا تھا۔

یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں کا انتظام کرنے والی حوثی ملیشیا نے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے بحری جہازوں پر دھماکہ خیز ڈرون اور میزائل داغے ہیں جس کے جواب میں حوثی فوجی مقامات پر مغربی حملے شروع ہو گئے ہیں۔

حوثیوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں کو اس وقت تک نشانہ بناتے رہیں گے جب تک کہ اسرائیلی افواج غزہ میں اپنی جنگ بند نہ کر دیں۔

اسرائیل اور فلسطینی ملیشیا گروپ حماس کے درمیان تنازعہ نے شرقِ اوسط میں شورش کی لہر دوڑا دی ہے۔

اہم بحری راستوں پر حوثیوں کے حملوں کے علاوہ لبنان کے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ گروپ نے اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر اسرائیل کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا ہے اور عراقی ملیشیا گروپوں نے امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے فوجی مراکز پر حملے کیے ہیں۔

کوپن ہیگن میں قائم نقل و حمل کی بڑی کمپنی میرسک نے بحیرۂ احمر کے راستے کنٹینر کی ترسیل میں رکاوٹوں سے خبردار کیا اور کہا ہے کہ سال کے دوسرے نصف حصے میں سمندری ٹریفک شدید ہجوم کا شکار اور امریکہ جانے والے سامان میں تاخیر ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں