عمرہ ٹور آپریٹر سے زائرین کی سہولت کی خاطر مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور

سعودی حکومت نے سال 2030ء تک 30 ملین عمرہ زائرین اور 5.4 ملین عازمین حج کی گنجائش بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عمرہ کمپنیاں رمضان کے سیزن سے پہلے اور اس کے دوران عمرہ زائرین کو بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ میں آنے والے زائرین کو زیادہ بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

سعودی وزیر حج وعمرہ توفیق بن الربیعہ کے ایک سابقہ بیان کے مطابق 2024ء کی حج و عمرہ سروسز کانفرنس میں دی گئی سہولیات کی بدولت گذشتہ رمضان سیزن کے دوران عمرہ زائرین کی تعداد 13.55 ملین تک پہنچ گئی۔

مملکت سے باہر سے آنے والے عمرہ زائرین کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا اضافہ ہے کیونکہ اضافے کا تخمینہ 50 لاکھ عمرہ زائرین پر لگایا گیا ہے جو کہ عمرہ زائرین کی تعداد میں 58 فیصد کا اضافہ ہے۔

اسی سطح پر مکہ مکرمہ میں چیمبر آف کامرس میں حج و عمرہ کمیٹی کے چیئرمین انجینیر عبداللہ قاضی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ رمضان کے موسم میں عمرہ کمپنیوں کو درپیش چیلنجز ہوٹلوں اور ایئر لائنز کے درمیان ہم آہنگی کے لیے اقدامات کیے جا رہے۔

دونوں فریقوں کو غیر طے شدہ پروازوں کی آمد اور غیر طے شدہ ہوٹلوں کی گنجائش، ان کے درمیان ہم آہنگی اور عمرہ زائرین کی خواہشات میں ہم آہنگی اور فالو اپ کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کچھ زائرین 10 دن قیام کرتے ہیں جن میں سے تین دن مدینہ میں رہتے ہیں اور سات دن مکہ میں گذارتے ہیں۔

بن قاضی نے حج اور عمرہ کے شعبے میں کام کرنے والے کاروباری افراد اور کمپنیوں سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کی اپیل کی، کیونکہ اسے ایک اہم حل سمجھا جاتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سعودی حکومت نے سال 2030ء کے دوران 30 ملین عمرہ زائرین اور 5.4 ملین عازمین حج کی گنجائش بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں