اتحادیوں کے انخلا کیلئے امریکہ کیساتھ ، اربیل پر ایرانی حملہ ناقابل قبول: عراقی صدر

حکومت صورتحال کو پرسکون کرنے اور جماعتوں کیساتھ معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے: الحدث چینل کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراقی صدر عبداللطیف جمال رشید نے کہا ہے کہ عراق برسوں سے اندرونی اور بیرونی محاذ آرائیوں سے دوچار ہے، انہوں نے کہا ملک میں سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے کام کرنا بین الاقوامی برادری کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ الحدث چینل نے عراقی صدر سے انٹرویو کیا جس میں انہوں نے عراق کے خارجہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے تعلقات اب پڑوسی ملکوں اور عالمی برادری کے ساتھ اچھے ہیں۔

عراقی صدر نے کہا امریکی موجودگی اور اتحادی افواج کا حکومت کے ساتھ معاہدہ تھا، ان افواج کی روانگی حکومت کی طرف سے سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر کیا گیا فیصلہ ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے عراق سے بین الاقوامی اتحادی افواج کے انخلاء کے حوالے سے رابطے شروع ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں بین الاقوامی اتحادی افواج کی موجودگی کا تعلق داعش سے ہے اور داعش کا خطرہ پہلے سے بہت کم ہو گیا ہے۔

عراقی صدر نے ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے معاملے پر جلد ہی ایک معاہدے کے بارے میں اپنی امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکیوں کے ساتھ سفارتی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم امریکہ جیسے ایک مضبوط ملک کے ساتھ تعلقات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔

ایران کے ساتھ عراق کے تعلقات کے متعلق عبد اللطیف جمال رشید کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں۔ ہمارے اس کیساتھ تجارتی اور مذہبی تعلقات ہیں۔ ہمیں غیر ملکی مداخلتوں کا سامنا کرنا پڑا جس نے ملک کو منفی طور پر متاثر کیا۔ حال ہی میں مسلح دھڑوں کی کارروائیوں کا تعلق غزہ کے خلاف جارحیت سے ہے۔

عراقی صدر نے ’’الحدث‘‘ چینل کہا کہ حکومت صورتحال کو پرسکون کرنے اور تمام سیاسی اور سکیورٹی جماعتوں کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہے، ہماری سیکیورٹی فورسز اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم ایک محفوظ، خود مختار ریاست کے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم غزہ یا کسی بھی عرب ملک کے خلاف جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم خطے کی صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سعودی عرب اور ایران کے خیالات کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور شام کو عرب لیگ میں واپس لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ خطے نے طویل عرصہ تنازعات اور جنگوں میں گزارا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ تنازعات اور جنگیں اب واپس نہیں آئیں گے۔

عراقی صدر نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور ہمیں تمام عرب سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے اچھے اور مضبوط تعلقات کے بارے میں پر امید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات سیاسی اور تجارتی لحاظ سے اچھے ہیں۔ ہم ترکیہ سمیت کسی بھی فریق کی طرف سے عراق میں سکیورٹی کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہیں۔ مسائل کے حل کے لیے ترکیہ کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے عراقی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال کرنے سے انکار پر زور دیا اور کہا کہ اربیل شہر پر ایرانی حملے کو مسترد کرتے ہیں۔ ایران کے ساتھ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور مشترکہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں