اقوامِ متحدہ کی افغانستان میں سرعام پھانسیوں کی مذمت، سزائے موت کے خاتمے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز افغانستان میں حالیہ سرعام پھانسیوں کی مذمت کرتے ہوئے طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ سزائے موت کا استعمال بند کریں۔

افغانستان کی طالبان حکومت نے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط شدہ موت کے پروانے پر گذشتہ ہفتے تین مجرموں کو سرِعام پھانسی دے دی تھی۔

تینوں افراد کو ایک بڑے ہجوم کے سامنے متعدد گولیاں ماری گئیں جس میں ان کے مقتولین کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان جیریمی لارنس نے ایک بیان میں کہا کہ "گذشتہ ہفتے افغانستان میں کھیلوں کے اسٹیڈیم میں تین افراد کو سر عام سزائے موت دیئے جانے سے ہم دہشت زدہ ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا، "سرِعام سزائے موت ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک یا سزا کی ایک شکل ہے۔"

"اس طرح کی پھانسیاں فطرت میں بھی ظالمانہ ہیں اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت محفوظ زندگی کے حق کے منافی ہیں جس کا افغانستان ایک ریاستی فریق ہے۔"

واحد مغربی جمہوریت امریکہ جو اب بھی سزائے موت پر عمل پیرا ہے، نے بھی سرعام پھانسیوں کی مذمت کی۔

محکمۂ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے منگل کو کہا، "یہ اس بربریت کی ایک اور علامت ہے جو افغان حکومت اپنے لوگوں کے ساتھ روا رکھتی ہے۔"

1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دورِ حکومت میں سرِعام موت کی سزائیں عام تھیں۔

اگست 2021 میں اقتدار میں ان کی واپسی کے بعد سے ان کی حکومت کے اسلام کے سخت نظریئے کے مطابق مٹھی بھر پھانسیاں دی گئی ہیں۔

جسمانی سزا -- بنیادی طور پر کوڑے -- البتہ عام رہی ہے اور چوری، زنا اور شراب نوشی سمیت جرائم کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے بیان میں حکام پر زور دیا گیا ہے کہ "کسی بھی مزید ایسی سزا کو فوراً معطل کریں اور سزائے موت کے استعمال کو مکمل طور پر روکنے کے لیے تیزی سے عمل کریں۔

اس میں مزید کہا گیا، "جسمانی سزا بھی ختم ہونی چاہیے۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گذشتہ ہفتے طالبان حکومت کی سزائے موت کی پالیسی کو "انسانی وقار کی سنگین خلاف ورزی" قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں