خوراک کے متلاشیوں پر حملے اور ہلاکتوں کا جائزہ لے رہے ہیں: امریکہ

سیز فائر کا اعلان پیر کے بجائے کسی اور دن پر جا سکتا ہے: جو بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی پیر کے بجائے کسی اور دن پر جا سکتی ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے اندازہ کیا گیا تھا کہ پیر کا دن جنگ بندی کے اعلان کا دن ہو گا۔ اب لگ رہا ہے کہ پیر کے دن سے جنگ بندی شاید مشکل ہو۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز رپورٹرز کے سوالوں کے جواب میں کہی۔

جو بائیڈن نے کہا کہ انہیں بہت زیادہ امید ہے کہ جنگ بندی ہوجائے گی۔ تاہم علاقے میں موجود رہنماؤں سے بات چیت میں انہیں بتایا گیا ہے کہ شاید پیر کے روز سے جنگ بندی نہ ہوسکے۔

امریکی صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ 'امریکہ خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے اور ہلاکتوں کے معاملے کو دیکھ رہا ہے۔' واضح رہے غزہ میں اسرائیلی فوج نے خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہونے والے لوگوں پر فائرنگ کی اور 104 فلسطینیوں کو قتل کر دیا جبکہ 280 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔

صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا اس واقعے سے لگتا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم ابھی وہ اس بارے میں معلومات لے رہے ہیں اور اس چیز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی صدر جب وائٹ ہاؤس سے باہر دورے پر جا رہے تھے تو رپورٹرز نے ان سے پوچھا تھا کہ غزہ میں خوراک کے حصول کے لیے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کے اس واقعے کے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات پر اثرات مرتب ہوں گے۔ جس پر جو بائیڈن نے مختصراً کہا 'میں جانتا ہوں کہ ہوں گے۔ '

غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے اس وقت اندھا دھند حملہ کر دیا جب سینکڑوں لوگ خوراک کے حصول کے لیے جمع تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 104 فلسطینی جاں بحق جبکہ 280 زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک مقامی ہسپتال کے مطابق اس کے پاس 10 'ڈیڈ باڈیز' لائی گئیں جبکہ درجنوں زخمیوں کو لایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں