شدت پسند حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنا سکتے ہیں: امریکہ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گزشتہ مہینوں کے دوران حوثیوں نے امریکیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بہت سے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ امریکی اب حوثیوں کے خطرے کو امریکی طاقت کے سامنے ابھرنے والا خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران جس چیز نے امریکیوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیج عدن کی طرف پھر سے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا رخ کرلیا ہے۔

امریکیوں کا پہلا اندازہ یہ تھا کہ سال کے آغاز سے ان کی افواج کی طرف سے تین مرتبہ کیے گئے فضائی حملے حوثیوں کو روکنے کے لیے کافی تھے۔ امریکی یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان کے حملہ آور ریڈار سٹیشنز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز حوثیوں کی صلاحیتوں کو کمزور کر دیں گے۔ امریکیوں نے یہ بھی کیا کہ حوثی علاقوں کی فضائی حدود میں جاسوسی ڈرون تعینات کردئیے اور اس ماہ کے اوائل میں یہ جاسوس ڈرونز حوثی میزائلوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

یہاں تک کہ حوثیوں نے کچھ دنوں میں کوئی حملہ کرنے سے بھی گریز کیا اور امریکیوں نے خیال کرلیا کہ اس نے فضائی حدود کو کنٹرول کرلیا اور حوثیوں کی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن حوثی اس کے بعد بھی بحری جہازوں پر بمباری کرنے اور بھاری نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ امریکی فوجی ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ حوثیوں نے امریکیوں کو گمراہ کرنے کے منصوبوں کا سہارا لیا ہے۔ حوثیوں نے ایسے ٹرکوں کو تعینات کیا جو بظاہر میزائل لے جا رہے ہیں لیکن درحقیقت خالی تھے۔ اس کا مقصد امریکی فضائی ٹریفک کنٹرول کو بھٹکانا تھا۔ اس دوران حوثی سیل نے میزائل کو کسی اور جگہ کے لانچ بیس سے لانچ کردیا۔

حوثیوں نے میزائلوں اور ٹرکوں کو بھی غیر مشتبہ عمارتوں میں رکھا اور جب انہیں لانچ کے لیے تیار کیا گیا تو عمارت سے باہر نکل کر حملہ کرایا گیا۔ یہ ٹرک کچھ دیر بعد اپنے ٹھکانوں پر واپس چلے گئے۔ اس طریقہ کار سے ان کا تعین کرنا امریکی فضائی جاسوسی کے لیے مشکل ہوگیا۔

"العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر کی انتظامیہ حوثیوں کے حملوں کا "مقابلہ" کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں سینٹرل کمانڈ سے منسلک فورسز نے کہا تھا کہ چوتھا فضائی حملہ ان کے اصرار کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن اور امریکی محکمہ دفاع حوثیوں پر اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ بین الاقوامی نیویگیشن اور خطے میں تعینات امریکی افواج کو خطرے میں ڈالنے کی اپنی صلاحیت سے محروم نہیں کردئیے جاتے۔

امریکی محکمہ دفاع نے تسلیم کیا کہ حوثیوں کے پاس بہت سے میزائل اور فضائی اور سمندری ڈرونز ہیں اور حوثیوں کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا مختصر مدت میں نہیں ہوگا۔

ایک امریکی عہدیدار سے جب حوثیوں کے قبضے میں موجود ہتھیاروں کی مقدار کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے العربیہ اور الحدث کی طرف دیکھا اور کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے وزیر دفاع نے کیا کہا تھا؟ لائیڈ آسٹن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: "میرے پاس بہت سے آلات اور ہتھیار ہیں"۔ العربیہ کے مطابق امریکیوں کو اس محاذ آرائی اور تصادم کے طویل عرصے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

سب سے خطرناک بات جو ایک ذریعہ نے بتائی کہ امریکی بھی حوثیوں کے خلاف آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر حوثیوں نے بمباری کی تو ہم ان پر حملہ کریں گے۔ اگر انہوں نے بمباری کا سلسلہ جاری رکھا تو ہم ان کے مراکز، ریڈار اور کمانڈ اینڈ کنٹرول پر حملہ کریں گے۔ اگر وہ پھر بھی حملے جاری رکھتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ وہی کریں گے جو ہم نے عراق کے ساتھ کیا اور ہم ان کے رہنماؤں کا بھی تعاقب کریں گے۔

یہ دھمکی یمن میں امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں ایک خاص معنی رکھتی ہے۔ امریکی اب تک جان بوجھ کر حوثیوں کے جانی نقصان سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ حوثی گروپ کے افراد پر بمباری کرنے تک بڑھنے کی بات کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں