عالمی سطح پر پھیلے خطرات، سعودی عرب میں سائبر سیکیورٹی ماہرین کی مانگ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سائبر سیکیورٹی سے متعلق ایک معروف سافٹ وئیر کمپنی 'قریٹرلیبز' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے عالمی سطح پر پائے جانے والے خطرات کے پیش نظر سعودی عرب میں 'سائبر کرائمز 'روکنے کے لیے سائبر سیکیورٹی ماہرین کی طلب میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں سائبر سیکیورٹی ماہرین کی تلاش کے معاملے میں پچھلے سال کے مقابلے 2023 کے دوران 133.3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سائبر سیکیورٹی کے کام سے متعلق سوالات کے جواب تلاش کرنے کی سطح میں بھی 353 فیصد سالانہ اضافہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

'قریٹر لیبز' میں بزنس ڈویلپمنٹ کے ذمہ دار وکٹر زیمزین نے 'العربیہ' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی مانگ میں یہ اضافہ اس وقت ہوا جب سعودی عرب کو سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ خلیجی ممالک سائبر خطرات کے لیے عالمی سطح پر سب سے زیادہ نشانہ بننے والے ممالک میں شامل ہیں۔

وکٹر زیمرین کے مطابق سائبر حملوں کا خطرہ ایک عالمی مسئلہ ہے اور خطے میں تعمیراتی، شہری اور دیگر منصوبوں کی تیز رفتار ترقی کی وجہ سے چیلنجز میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب میں وسائل کی ترقی کومزید محفوظ ہونے کا سلسلہ جاری ہے، سائبر حملوں کی پیچیدگی بھی بڑھے گی۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے' بین الاقوامی ادارے ' آئی بی ایم' کے حالیہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تنظیموں پر سائبر حملے کی اوسط لاگت عالمی اوسط لاگت کے مقابلے میں سے 69 فیصد سے تجاوز کرکے حیرت انگیز طور پر 6.53 ملین ڈالر ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا' سائبر کرائم کا چیلنج آج کی دنیا میں اہم معاملہ ہے۔ خلیجی ممالک میں تعمیرات میں تیزی، شہری ترقی اور جدت کے منصوبوں کے علاوہ سرمایہ کاری کے امکانات میں اضافہ بھی سائبر کرائم کے لیے ایک بڑے سبب کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔

سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب پڑوسی ممالک کے لیے ایک بہترین مثال قائم ہے۔ کیونکہ مملکت نے گزشتہ کئی سالوں میں اپنی سائبرسیکیورٹی کوششوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں