فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی دھڑے ’پی ایل او‘ کا احترام کرنے پر متفق ہیں: لاوروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فلسطینی دھڑے ’پی ایل او‘ کا احترام کرنے پر متفق ہیں۔

سرگئی لاوروف نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ پی ایل او فلسطینی عوام کی آئینی نمائندہ تھی اور رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ "ہم ان تمام ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں جو فلسطینی دھڑوں پر اثر انداز ہوتے ہیں تاکہ دھڑوں کے درمیان اختلافات کو کم کرکے ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل تقسیم کا جمود برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اس سے تشدد میں اضافہ ہوتا ہے۔

فلسطینیوں کا واحد آئینی نمائندہ ادارہ

حماس نے ماسکو میں روسی حکام سے ملاقات کے فوراً بعد کہا تھا کہ روسی دارالحکومت میں جمع ہونے والے فلسطینی دھڑوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ’پی ایل او‘ "فلسطینیوں کی آئینی نمائندہ اتھارٹی " ہے۔

حماس نے ایک بیان میں زور دیا کہ "اجلاس میں مثبت، تعمیری جذبہ غالب رہا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان مذاکرات ایک جامع قومی اتحاد تک پہنچنے کے لیے جاری رہیں گے۔

اس ہفتے کے آغاز میں فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے اپنی حکومت کا استعفیٰ فلسطینی صدر محمود عباس کو پیش کیا تھا جس کےبعد فلسطینی اتھارٹی محمد مصطفیٰ کو نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے کام کررہی ہے۔

ماسکو کانفرنس کے لیے سفارشات

فلسطینی صدر محمود عباس نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ ماسکو کانفرنس میں سفارشات کی نوعیت کو لے کر ’پی ایل او‘ کے سیاسی پروگرام پر عمل پیرا ہونے اور 2007 کے واقعات کی وجہ سے فلسطینی تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پرامن عوامی مزاحمت کے علاوہ ایک اتھارٹی، قانون اور آئینی ہتھیار کے اصول پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں