ٹرمپ ٹرائل

ٹرمپ کولوراڈو پرائمری الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، امریکی سپریم کورٹ

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل ویب سائٹ پر ’امریکہ کے لیے بڑی جیت‘ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو سراہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سپریم کورٹ نے کولوراڈو اور دیگر ریاستوں کی جانب سے سابق ریپبلیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’سپر ٹیوز ڈے‘ پرائمری میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور 2024 کی صدارتی نامزدگی کے لیے ان کی پرائمری ووٹنگ بحال کر دی۔

فیصلے کے بعد نومبر 2024 کے صدارتی الیکشن کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کی راہ میں حائل ایک ممکنہ رکاوٹ کو دور ہو گئی ہے۔

ججوں نے یہ فیصلہ سپر ٹیوز ڈے کی پرائمری ووٹنگ سے ایک روز پہلے سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ریاستیں ایک صدارتی امیدوار کو ووٹنگ میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے خانہ جنگی کے بعد کی ایک آئینی شق کو استعمال نہیں کر سکتیں۔ عدالت نے رائے دی کہ یہ اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کو امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر ریاستی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا جو بغاوت میں ملوث ہونے کی بنیاد پر ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں حصہ لینے سے روک سکتا تھا۔

سابق امریکی صدر کے حق میں آنے والے فیصلے کے بعد توقع ہے کہ نومبر میں صدر جو بائیڈن سے مقابلہ کرنے کے لیے ریپبلکن کی جانب سے نامزدگی کی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کو تقویت ملے گی۔

اس مقدمے میں نو ججوں کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا ٹرمپ کولوراڈو میں ریپبلکن صدارتی پرائمری بیلٹ میں شرکت کے لیے (چھ جنوری 2021 کی) بغاوت میں ملوث ہونے کی وجہ سے نااہل ہیں یا نہیں؟

عدالت نے متقفہ فیصلے میں کہا کہ ’کولوراڈو سپریم کورٹ کا فیصلہ قائم نہیں رہ سکتا‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ 77 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ ریاست میں ریپلیکن کی پرائمری بیلٹ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ’عدالت کے تمام نو ارکان اس نتیجے پر متفق ہیں۔‘

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل ویب سائٹ پر ’امریکہ کے لیے بڑی جیت‘ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کو سراہا ہے۔

یہ مقدمہ دسمبر میں کولوراڈو میں ریاستی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد شروع ہوا تھا اور یہ ان 15 ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں سپر منگل کو ری پبلکن کی صدارتی نامزدگی کے لیے ووٹنگ ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں