اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران ممکنہ طور پر جنسی تشدد کے واقعات ہوئے: یو این مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم نے پیر کے روز کہا کہ یہ یقین کرنے کی معقول بنیاد موجود ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران کئی جگہوں پر جنسی تشدد بشمول ریپ اور اجتماعی زیادتی کے واقعات ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی پرمیلا پیٹن کی قیادت میں ایک ٹیم نے 29 جنوری سے 14 فروری کے درمیان اسرائیل کا دورہ کیا جس کا مقصد سات اکتوبر کے حملوں سے منسلک جنسی تشدد سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا، تجزیہ کرنا اور اس کی تصدیق کرنا تھا۔

چوبیس صفحات پر مشتمل اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابل بھروسہ واقعاتی معلومات سے جنسی تشدد کے کچھ واقعات کی نشاندہی ہوتی ہے، جن میں نازک اعضا کو نقصان پہنچانا، جنسی تشدد، ظالمانہ، غیرانسانی اور توہین آمیز سلوک بھی شامل ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشن پر جانے والی ٹیم کو ایسی واضح اور قابل اعتماد معلومات ملی ہیں کہ غزہ لے جانے والے کچھ یرغمالوں کو جنسی تشدد کی مختلف اشکال کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے پاس یہ یقین کرنے کی معقول بنیادیں ہیں کہ اس نوعیت کا تشدد جاری ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے کہا ہے کہ جنسی تشدد کی مجموعی وسعت و حجم، دائرہ کار اور اس کی نوعیت کے تعین کے لیے مکمل تحقیقات کی ضرورت ہو گی۔

فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس متعدد بار جنسی تشدد کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے انہیں مسترد کر چکا ہے۔

اس سے پہلے کی رپورٹوں میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے یہ بھی کہا تھا کہ اسے اداروں کی سطح پر، سول سوسائٹی کے ذرائع اور براہ راست انٹرویوز سے بھی، سات اکتوبر کے واقعہ کے بعد حراستی مراکز، گھروں پر چھاپوں کے دوران اور پڑتالی چوکیوں پر فلسطینی مردوں اور عورتوں کے خلاف جنسی تشدد کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ حراستی مراکز اسرائیل میں تھے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے یہ الزامات اسرائیلی وزارت انصاف اور ملٹری ایڈووکیٹ جنرل کے سامنے رکھے، جن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ارکان کے خلاف جنسی تشدد کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

اسرائیل کے مطابق حماس کے جنگجوؤں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 253 کو یرغمال بنایا گیا۔ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کے ردعمل میں حماس کی وزارت صحت کے مطابق اب تک 30 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔

اسرائیل سات اکتوبر کے حملوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ردعمل پر تنقید کرتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے گزشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ سات اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کے واقعات کی جامع تحقیقات اور اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جنسی بنیاد پر تشدد کی مذمت کی جانی چاہیے، چاہے وہ کہیں بھی ہو، کسی بھی وقت ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں