اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ترکیہ میں سات افراد گرفتار

حراست میں لیے جانے والے سات افراد میں ایک خصوصی جاسوس بھی شامل ہے، جس پر اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس سروس کے لیے جاسوسی کا شبہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکیہ میں سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک خصوصی جاسوس بھی شامل ہے، جس پر اسرائیل کی موساد انٹیلی جنس سروس کے لیے جاسوسی کا شبہ ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول کے مطابق ترکیہ کی جاسوس ایجنسی اور استنبول کی انسداد دہشت گردی پولیس کے آپریشن سے ظاہر ہوا کہ مشتبہ افراد نے رقم کے لیے موساد کو معلومات فراہم کی تھیں۔

یہ چھاپے ایک ایسے وقت میں مارے گئے ہیں جب جنوری میں ترک حکام نے اغوا کی منصوبہ بندی اور موساد کے لیے جاسوسی کے شبے میں 34 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

استنبول کے استغاثہ نے اس وقت کہا تھا کہ 12 دیگر مشتبہ افراد مفرور ہیں۔

اکتوبر 2023 میں غزہ پر جارحیت کے آغاز کے بعد سے اسرائیل سے ترکی کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے سخت ترین ناقدین میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے نتن یاہو کا موازنہ ایڈولف ہٹلر سے کیا ہے اور اسرائیل کے مغربی اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ غزہ میں کی جانے والی ’ریاستی دہشت گردی‘ کی حمایت ترک کر دیں۔

جنوری میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد اردوغان نے کہا تھا کہ ترکی کی کارروائی نے اسرائیل کو ’سنگین طور پر پریشان‘ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں