ایشیا کےارب پتی شخص کےبیٹے کی شادی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا مگر دولت کہاں سے آئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں ہونے والی امبانی خاندان کے ایک نوجوان کی شادی میں جس طرح پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے اس نے اس شادی کو پوری دنیا میں ایک افسانی شادی قرار جا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مکیش کے سب سے چھوٹے بیٹے اننت موکیش کی شادی پر خرچ کی جانے والی دولت اس خاندان کےپاس کہاں سے آئی۔

ایشیا میں سب سے امیر

فوربز میگزین کے مطابق 66 سالہ امبانی 115 بلین ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ دنیا کے دسویں امیر ترین آدمی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ریلئنس انڈسٹریز 100 بلین ڈالر سے زیادہ کی سالانہ آمدنی کے ساتھ ایک بہت بڑا گروپ ہے اور اس کی سرگرمیاں پیٹرو کیمیکل، تیل اور گیس، مواصلات اور خوردہ تجارت سے متعلق ہیں۔

امبانی ریلئنس کمپنی کے مالک ہیں جسے ان کے والد نے 1966ء میں قائم کیا تھا۔ آج اس کے 420 ملین سے زیادہ صارفین ہیں اوریہ کمپنی 5G موبائل خدمات پیش کرتی ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں ڈزنی نے ہندوستان میں اپنے کاروبار کو امبانی کی ریلئنس انڈسٹریز کے ساتھ ضم کرنے کے لیے ایک نیا میڈیا گروپ بنانے کا اعلان کیا جس میں معاہدے کی لاگت8.5 بلین ڈالر ہے۔

امبانی خاندان دیگر اثاثوں کے علاوہ ممبئی میں 1 ارب ڈالر مالیت کی 27 منزلہ نجی رہائشی عمارت انٹیلا کا مالک ہے۔ اس میں 3 ہیلی پیڈ، 160 کاروں کا گیراج، ایک نجی فلم تھیٹر، ایک سوئمنگ پول اور ایک فٹنس سینٹر ہے۔

امبانی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی بنیادی طور پر 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں کانگریس پارٹی کی حکومتوں کے دوران اور پھر 2014 کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں سیاسی رابطوں کی وجہ سے پروان چڑھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے "کرونی کیپٹلزم" نے امبانی کی طرح کچھ کمپنیوں کو پھلنے پھولنے میں مدد کی ہے۔

مکیش امبانی
مکیش امبانی

مکیش امبانی نے اپنے دو بیٹوں اور بیٹی کو قیادت سونپی۔ سب سے بڑا بیٹا آکاش امبانی اب ریلئنس جیو کا چیئرمین ہے۔ جبکہ ان کی بیٹی ایشا ریٹیل سیلز کی نگرانی کرتی ہے۔ سب سے چھوٹا اننت جس کی جولائی میں شادی ہو رہی ہے نے توانائی کے نئے شعبے میں شمولیت اختیار کی ہے۔

شادی میں مدعو ہونے والوں کی فہرست میں نہ صرف فنکار شخصیات شامل ہیں بلکہ اس میں دنیا کے اہم ترین سیاستدان بھی شامل ہیں۔شادی کی تقریب 5 ماہ تک جاری رہے گی اور اس میں سرگرمیوں اور تقریبات کا ایک گروپ شامل ہوگا۔

اس تناظر میں برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے تصدیق کی ہے کہ تقریبات پر 152 ملین ڈالر لاگت آئے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں