امریکیوں کی جاسوسی کرنے والے سابق اسرائیلی انٹیلی جنس افسرپرامریکہ نے پابندیاں لگادیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں منگل کے روز ایک غیر معمولی واقعے کے طور پر اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق افسر پر پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اسرائیلی اہلکار پر الزام ہے کہ یہ امریکیوں کی ہی جاسوسی کرنے میں ملوث ہے۔ اسرائیل امریکہ کے لیے ایک ' ڈارلنگ' کے درجے میں ہے لیکن اتفاق ہے کہ کافی عرصے بعد امریکہ میں اسی نے امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

چند ماہ قبل آئی 5 کا رکن ہونے کے ناطے امریکہ نے جنوبی ایشیا میں اپنی قربت میں آ چکے بھارت کی خفیہ ایجنسی کی جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات کا بھی نوٹس لیا تھا۔ تاہم اسرائیل کے حوالے سے اس واقعے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔

اسرائیل کے سابق فوجی انٹیلی جنس افسر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ امریکیوں کے خلاف ہی جاسوسی آلات استعمال کرنے کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ جو امریکی حکومتی عہدے داروں، پالیسی ماہرین اور امریکی صحافیوں کی جاسوسی کر رہا تھا۔ سال پہلے بھی اسرائیلی جاسوسں کے بارے میں امریکہ کو اس طرح کی شکایات پیدا ہو چکی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ میں دہشت گردی کے خلاف نائب وزیر بریان نیلسن نے منگل کے روز کہا ہے ' آج کا یہ اقدام ہماری طرف سے نظر آنے والے اقدامت کے ذمرے میں آتا ہے۔ کہ کاروباری نگرانی کے لیے بروئے کار نگرانی کے آلات کا غلط استعمال نہ کیا سکے جو کہ ہمارے شہریوں کے خلاف ان دنوں زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔

واضح رہے جوناتھن ڈلیان اسرائیلی سابق فوجی انٹیلجنس کے افسر ہہے اور انٹیلیکسا کنسورشیم کا بانی ہے۔ مگر یہ تجارت کی آڑ میں امریکیوں کی ہی جاسوسی کر رہا تھا۔ اس کی کمپنی 2019 سے کام کر رہی ہے۔ یہ کمپنی سائبر کمپنیوں اور دوسری بہت ساری کمپنیوں کے ساتھ ڈیلنگ میں رہی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے دہشت گردی ونگ کا کہنا ہے کہ اس طرح اس سلسلے کو نہ روکا جاتا تو یہ ہمارے آلات میں جاسوسی کے لیے گھس سکتا تھا اور اسے صارفین کو پچھے بغیر ان کی معلومات تک رسائی ہو جاتی۔'

نیز ان معلومات میں جو چوری اور چالبازی کر کے ان میں ڈیٹا کا غیر مجاز طریقے سے نکالنا ممکن ہو سکتا تھا، دوسروں کی لوکیشنز کا اندازہ لگانا ،جغرافیائی محل وقوع سے باخبر رہنا وغیرہ بھی ممکن ہو جاتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں