امریکی دفتر خارجہ کے تین اہم عہدیداروں کا عہدے چھوڑنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی دفتر خارجہ کے تین اہم عہدے دار صدارتی انتخاب سے قبل عہدوں کو چھوڑ دیں گے۔ ان عہدے داروں نے منگل کے روز وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو اس سلسلے میں آگاہ کر دیا ہے کہ وہ مستعفی ہوجائیں گے۔

ان تین عہدے داروں میں سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری وکٹوریہ نولینڈ نے باضابطہ لکھ بھیجا ہے۔ وہ دفتر خارجہ میں ایک سال سے کم رہیں تاہم وہ دفتر خارجہ میں دوسری اہم ترین پوزیشن پر تھیں۔ انہوں نے بطور ایک سینئیر سفارتکار چھ امریکی صدور کے طور پر کام کر چکی ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران روس یوکرین جنگ کے حوالے سے ان کی رائے ہمیشہ اہم رہی ہے۔ ادھر دفتر خارجہ کی ایک اور عہدے دار ونڈی شری مان نے بھی دفتر خارجہ سے اپنا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

وزیر خارجہ بلنکن نے وکٹوریہ نولینڈ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روس اور یوکرین کی جنگ کے حوالے سے جو خدمات انجام دی ہیں ان کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ یوکرین کے خلاف روسی حملے کو ناکام بنانے، اس کے خلاف اتحادیوں کو اکٹھا کرنے اور یوکرین کو کھڑا رکھنے میں وکٹوریا نولینڈ نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ جمہوری، سفارتی، فوجی ہر اعتبار سے انہوں نے بہترین رہنمائی کی۔

العربیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وکٹوریہ نولینڈ ناخوش ہوگئیں جب جان فائنر کو وزارت خارجہ میں دوسری اعلیٰ ترین پوزیشن پر تعینات کر دیا گیا۔ سات ماہ تک وکٹوریہ نولینڈ قائم مقام نائب وزیر خارجہ رہیں۔ تاہم انہیں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وکٹوریہ نولینڈ کی جگہ عہدہ کون سنبھالے گا۔ تاہم وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جان باس کو کہا ہے کہ وہ قائم مقام کے طور کام کرتے رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں