روس اور یوکرین

زیلنسکی اور یونانی وزیراعظم روسی بمباری میں بال بال بچے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بدھ کے روز ایک روسی میزائل حملے نے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر اوڈیسا کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے قافلے کے قریب نشانہ بنایا، جہاں وہ یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس سے ملاقات کر رہے تھے۔

"صرف 152 میٹر دور میزائل گرا"

واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ یونانی حکام نے پروٹوتھیما نیوز آؤٹ لیٹ کو بتایا کہ زیلنسکی اور یونانی وفد کے ارکان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا حالانکہ میزائل ان سے صرف 152 میٹر کے فاصلے پر گرا۔

زیلنسکی اور یونانی وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس مقامی وقت کے مطابق صبح 10:40 بجے کے قریب اوڈیسا کی بندرگاہ کا دورہ کر رہے تھے۔ اس دوران فضائی حملے کے سائرن سنائی دیے اور چند منٹوں میں دھماکہ ہوگیا‘‘۔

زیلنسکی کا ردعمل

اس کے بعد زیلنسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ"آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کس کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کہاں حملہ کرتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آج وہاں ہلاکتیں ہوئیں۔ مجھے ابھی تک تمام تفصیلات معلوم نہیں ہیں لیکن میں جانتا ہوں کہ لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "چاہے وہ فوجی اہلکار ہوں، عام شہری ہوں یا بین الاقوامی مہمان۔ ان لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یا تو وہ دماغ کھو چکے ہیں یا وہ اپنی فوج کی کارروائیوں پر قابو نہیں رکھتے۔ اس سے ہمیں اپنے دفاع کی ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے اور بہترین طریقہ فضائی دفاعی نظام ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں