غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے قبرص سے سمندری راہدری کھلوانے کی یورپی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنگ سے تباہ حال شمالی غزہ تک اشد ضرورت کی انسانی کی امداد پہنچانے کی کوششوں میں بدھ کے روز اضافہ ہوا جب یورپی یونین نے قبرص سے غزہ تک سمندری راستہ بنانے کے لیے دباؤ بڑھایا اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اسرائیل کے اتحادیوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

قبرصی حکومت کے ترجمان کوستانتینو اتیمبیوتس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین جمعے کو لارناکا کی بندرگاہ پر تنصیبات کا معائنہ کرنے کے لیے قبرص کا دورہ کریں گی، جہاں سے سمندری راستہ قائم ہونے کی صورت میں امداد غزہ کے لیے روانہ ہو جائے گی۔

یورپی یونین کے ترجمان ایرک میمر نے کہا کہ بلاک کو امید ہے کہ راہداری "بہت جلد" کھل جائے گی۔

فلسطینیوں کے لیے خوراک کی ترسیل کے فقدان سے فکر مند، امریکہ، اردن اور دوسرے ملکوں نے حالیہ دنوں میں امداد کو فضائی ذریعے سے پہنچانا شروع کیا ہے لیکن امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ فضائی وسائل سے اشد ضروری امداد کا صرف معمولی سا حصہ ہی پہنچایا جا سکتا ہے۔

غزہ بحران کے خاتمے کے لیے عالمی دباؤ کے دوران، اسرائیل کے دو عہدے داروں نے بدھ کو کہا کہ حکومت امداد کو براہ راست اپنی سرزمین سے شمالی غزہ تک جانے کی اجازت دینا شروع کر دے گی اور قبرص سے سمندری راستہ بنانے میں بھی تعاون کرے گی۔

عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ آئندہ کی ترسیل پر میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل جمعے کو 20 سے 30 امدادی ٹرکوں کو اسرائیل سے شمالی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا، جو اس راستے سے امداد کی مزید باقاعدہ ترسیل کی شروعات ہو گی۔

اہل کار نے بتایا کہ اسرائیل اتوار کو قبرص میں امداد کی غزہ تک ترسیل سے پہلے حفاظتی چیکنگ بھی شروع کر دے گا۔ یہ جہاز سمندری راستے کی فزیبلٹی جانچنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ ہو گا۔ یہ امداد متحدہ عرب امارات کی مالی اعانت سے ہے اور اس کی ترسیل کا عمل امریکی شمولیت سے ممکن ہوا ہے۔

امدادی گروپوں نے کہا ہےکہ اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ کاری میں دشواری، جاری جنگ، اور امن عامہ کی خرابی کی وجہ سے غزہ کے بیشتر علاقوں میں رسد پہنچانا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ جب کہ شمال میں امداد پہنچانا اور بھی دشوار ہے۔

امدادی ٹرک غزہ کے جنوبی کنارے پر مصر کے ساتھ واقع رفح کراسنگ یا اسرائیل کے ساتھ واقع کرم شالوم کراسنگ سے روانہ ہو کر تنازع کے زون سے گزر کر بڑے پیمانے پر کٹے ہوئے علاقوں تک پہنچتے ہیں۔گذشتہ ہفتے، اسرائیلی فوج کی طرف سے امداد کی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کی کوشش ایک سانحے پر ختم ہوئی جب 100 سے زیادہ فلسطینیوں کو اسرائیلی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر یا بھگدڑ کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔

غزہ جنگ کا آغاز سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے سے ہوا جس میں فلسطینی عسکریت پسندوں نے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنا لیا۔ نومبر میں ایک ہفتہ طویل جنگ بندی کے دوران ان میں سے 100 سے زیادہ کو رہا کیا گیا تھا۔

اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل نے جوابی طور پر 23 لاکھ لوگوں کے محصور شہر غزہ پر فضائی، زمینی اور بحری کارروائیاں کیں جس کے بارے میں حماس کے زیر انتظام غزہ کی وزارت صحت نے بدھ کو کہا کہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 30,717 ہوگئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں