گوگل کے راز چرانے کے الزام میں امریکا میں چینی انجینیر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے کہا ہے کہ بدھ کے روز ایک چینی انفارمیشن انجینیر کو گوگل سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔یہ گرفتاری اس وقت عمل میں لائی گئی جب وہ خفیہ طور پردو چینی کمپنیوں کے لیے کام کر رہا تھا۔

4 الزامات

گارلینڈ کے ایک بیان کے مطابق 38 سالہ لِن وے ڈینگ جسے لیون ڈینگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کو پیشہ ورانہ رازوں کی چوری کے چار الزامات کا سامنا ہے۔

بیان میں گن گارلینڈ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "محکمہ انصاف مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی چوری کو برداشت نہیں کرے گا جو ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں"۔

چین میں قائم دو کمپنیوں کے لیے خفیہ کام کرنے کا الزام

انہوں نے مزید کہا کہ"ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ملزم نے چین میں قائم دو کمپنیوں کے لیے خفیہ طور پرکام کرتے ہوئے گوگل سے مصنوعی ذہانت سے متعلق تجارتی راز چرائے۔ ہم امریکہ میں تیار کی گئی حساس ٹیکنالوجیز کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے مضبوطی سے تحفظ فراہم کریں گے"

بدھ کو شائع ہونے والے فرد جرم کے مطابق 2019ء میں امریکی کمپنی میں ملازمت کرنے والے لن وے ڈنگ پرمئی 2022ء تک 500 سے زائد فائلیں خفیہ طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے کا مقدمہ چلایا جائے گا جو کہ گوگل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کی گئی تحقیق سے متعلق ہے۔

"امریکی ایجادات چوری کرنا"

دوسری جانب ’ایف بی آئی‘ کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے بیان میں کہا کہ "یہ الزامات اس بات کی تازہ ترین مثال ہیں کہ عوامی جمہوریہ چین میں واقع کمپنیوں کے ملازمین کس حد تک امریکی ایجادات کو چرانا چاہتے ہیں"۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انجینیر کے خلاف چار الزامات میں سے ہر ایک میں دس سال قید اور 250,000 ڈالر جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں