جو بائیڈن کا سٹیٹ آف یونین سے آتشی خطاب، ٹرمپ کو خوب آڑے ہاتھوں لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جو بائیڈن نے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اگلے صدارتی الیکشن میں اپنے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ کو روس اور جمہوریت کے ایشوز پر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کووڈ 19 کے حوالے سے لاپرواہی برتنے اور کیپیٹل ہل پر حملے کو انتخابی مقدمے کے طور پر پیش کیا۔

جوبائیڈن نے ایوان زیریں اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب سے قبل اپنے حریف پر جملے کسے اور سخت تنقید کی۔ انہوں نے تنقید کی کہ ٹرمپ دفاعی امور پر زیادہ خرچ نہ کر کے نیٹو کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاکہ روس امریکی اتحادیوں پر اپنے حملے کو آسان بنالے۔

صدر جوبائیڈن نے اپنے صدارتی پیش رو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو کھلی چھٹی دے دی ہے کہ امریکی اتحادیوں کے ساتھ جو مرضی کرتا رہے۔ 'ٹرمپ کا یہ رویہ اشتعال انگیز، خطرناک اور ناقابل قبول ہے۔'

جو بائیڈن جو کہ یوکرین کو روس کے خلاف جنگ کے لیے اضافی مالی امداد فراہم کرنے کے لیے کانگریس پر زور دے رہے ہیں نے پوٹن کو بھی پیغام دیتے ہوئے کہا "ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے"۔

جوبائیڈن نے اپنے ساتھ اپنے انتخابی حریف کا موازنہ پیش کرتے ہوئے جمہوریت، اسقاط حمل کے حقوق اور معیشت جسیے مضوعات کا ذکر کیا۔ ڈیموکریٹس صدر جوبائیڈن کے اس موازنہ کو صدارتی انتخاب میں عوام کے سامنے ایک اچھے مقدمے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے نے ملکی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی کوشش کی کہ ٹرمپ کے حامی 2020 میں جوبائیڈن کی فتح کو شکست میں بدلنا چاہتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں