اسرائیل نے ہمارے ملازمین کو تشدد سے حماس کے ساتھ تعلق کے اعتراف پر مجبور کیا: اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (اونروا) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایجنسی کے کچھ ملازمین جو غزہ میں اسرائیلی جیلوں سے رہا ہوئے تھے نے بتایا کہ ان پر اسرائیلی حکام کی طرف سے یہ جھوٹا بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ ایجنسی کے حماس سے روابط ہیں اور اس میں ملازمین نے سات اکتوبر کے اسرائیل پر حملے میں حصہ لیا تھا۔

یہ الزامات فروری 2024 کی ’اونروا‘ کی رپورٹ میں موجود ہیں۔ اس کی ایک نقل خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے پاس ہے۔ اس میں فلسطینیوں کے بیانات، بشمول ’اونروا‘ ملازمین سے اسرائیلی جیلوں میں ان کے ساتھ ناروا سلوک کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

’اونروا‘ کمیونیکیشن ڈائریکٹر جولیٹ ٹوما نے کہا کہ ایجنسی 11 صفحات پر مشتمل غیر مطبوعہ رپورٹ میں موجود معلومات کو اقوام متحدہ کے اندر اور باہر ایجنسیوں کے حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویز ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "جب جنگ ختم ہو جائے تو انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں کو دیکھنے کے لیے تحقیقات ہونی چاہئیں"۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے ’اونروا‘ کے متعدد فلسطینی ملازمین کو گرفتار کیا اور ان کے ساتھ جو ناروا سلوک اور خلاف ورزیاں کی گئیں۔ ان میں شدید جسمانی مار پیٹ، واٹر بورڈنگ اور خاندان کے افراد کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں شامل تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "ایجنسی کے ملازمین کو حراست کے دوران اسرائیلی حکام کی طرف سے دھمکیوں اور جبر وتشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر ایجنسی کے خلاف جھوٹے بیانات دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، جن میں ’اونروا‘ کے حماس تحریک سے روابط تھے اور سات اکتوبر کے حملے میں اس کے ملوث ہونے کا جھوٹا اعتراف کرنے پر مجبور کیا گیا۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ’اونروا‘ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ حراست میں لیے گئے اس کے کارکنوں اور ملازمین کو اسرائیلی حراستی مراکز میں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں