غزہ میں عارضی بندرگاہ کی تعمیر میں وقت لگے گا: ڈیوڈ کیمرون

جنگ بندی کا موقع موجود لیکن اس کے لیے حماس کو اسرائیل کی جانب سے منظور کیے گئے معاہدے پر دستخط کرنا ہونگے: برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ امریکی قیادت میں غزہ کی پٹی تک امداد پہنچانے کے لیے ایک عارضی بندرگاہ بنانے کے منصوبے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے اسرائیل سے اشدود کی بندرگاہ کھولنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔ کیمرون نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ بندرگاہ کی تعمیر میں وقت لگے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیلیوں کو آج اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے کہ وہ اشدود کی بندرگاہ کھولیں گے۔ اس سے فرق پڑے گا۔

کیمرون نے مزید کہا کہ غزہ میں مزید امداد بھیجنے کی ضرورت ہے، انہوں نے زور دیا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران روزانہ تقریباً 120 امدادی ٹرک داخل ہوئے تاہم غزہ کی پٹی کو تقریباً 500 ٹرکوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم تیزی سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد سب سے اہم چیز ہے جس کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا غزہ میں انسانی صورتحال تکلیف دہ ہے اور لوگ بھوک اور بیماریوں سے مر رہے ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی کا موقع موجود ہے لیکن اس کے لیے حماس کو اسرائیل کی طرف سے منظور شدہ معاہدے پر دستخط کرکے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنانا ہوگی اور بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو آج ہی معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گےاور اس کے بعد 45 دن اور شاید اس سے زیادہ کے لیے جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ پھر اس جنگ بندی کو ایسی پائیدار جنگ بندی کی طرف تیزی سے جانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے لڑائی ختم ہو جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں