بھارتی شہری یوبیوٹر کے جال میں کیسے پھنسا اور روس کے محاذ جنگ پر کیا کررہا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے ایک مشہور یوٹیوبر نے اپنے ناظرین کو ملازمت کا انوکھا لالچ دیا جس کے جال میں پھنس کر ایک بھارتی شہری روس میں محاذ جنگ پر جا پہنچا۔

بھارتی یوٹیوبر نے کہا کہ روسی فوج کے ساتھ ملازمت کے مواقع موجود ہیں اور وہاں پرایک لاکھ بھارتی روپے جا بارہ سو ڈالر کی تنخواہ مل سکتی ہے۔

سید الیاس حسینی نامی نوجوان نے گذشتہ دسمبر میں اپنے ملک واپس جانے کے لیے بیرون ملک اپنا کام ترک کر دیا۔ وہ بھارت واپس آیا اور وہاں سے وہ روس چلا گیا۔ اسے ایک مشہور ہندوستانی یوٹیوب انفلوئنسر کی طرف سے دھوکہ دیا گیا تھا۔

الیاس کو لگا کہ یہ یوٹیوبر حقیقی ملازمت کی بات کرتا ہے۔ کیونکہ وہ نیوزی لینڈ اور سنگاپور جیسے متنوع ممالک میں بے شمار پرکشش ملازمتوں کی بات کررہا تھا۔

یہ یوٹیوبرگذشتہ ستمبرمیں روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کے مرکزمیں گھومتے دیکھا گیا۔ اس نے وہاں سے اپنے فالورز سے روسی فوج کے اہلکاروں کے ساتھ ایک دفتری ملازمت کی بات کی اور کہا کہ اس ملازمت میں انہیں کوئی خطرہ نہیں اور انہیں اس کے عوض 1200 ڈالر یا ایک لاکھ بھارتی روپے تنخواہ مل سکتی ہے۔

فوجی وردی میں ملبوس

ہندوستانی ورکر نے اپنے والد کو بتایا کہ اس کے ذہن میں کام کی ایک نئی منزل ہے جو کہ روس ہے۔

اس کے والد نے کہا کہ یہ کام میرے بیٹے کو بہت اچھا لگا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا بیٹا ہندوستان واپس آنے کے 10 دن بعد اپنے چند دوستوں کے ساتھ روس چلا گیا۔

تاہم ایک ماہ کی خاموشی کے بعد ان کے والد کو سید الیاس حسینی کی طرف سے ایک ویڈیو کلپ موصول ہوا جس میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک جنگل کے علاقے میں فوجی وردیوں کی طرح نظر آئے۔

"جال میں پھنس گیا"

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق نوجوان نے ویڈیو میں کہا کہ ان سب کو یوکرین میں اگلے مورچوں پر روسی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والے نوجوان کےوالد جو ایک پولیس اہلکار ہیں نے بتایا اس کے بیٹے کو ٹریپ کیا گیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں روسی فوج کی صفوں میں بھارتی شہریوں کی بھرتی کی ویڈیوز سامنے آئیں۔ان ویڈیوز میں انہیں اپنی حکومت سے مدد کی اپیل کرتے دیکھا گیا ہے۔

بھارتی دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ روس ملازمت کے لیے جانے والے دو بھارتی وہاں مارے گئے ہیں جب کہ ان کے پاس بیس کے لگ بھگ ایسے لوگوں کی معلومات ہیں جو روس میں فوج کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں