حوثیوں کا امریکی ڈسٹرائر پر ناکام بیلسٹک میزائل حملہ، امریکی فوج نے دو ڈرون مار گرائے

العربیہ ڈاٹ نیٹ - ایجنسیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ کل منگل کو حوثی باغیوں نے یمن میں ان کے زیر کنٹرول علاقے سے بحیرہ احمر میں ڈسٹرائر لیبون کی طرف بیلسٹک میزائل داغا لیکن وہ نشانے پر نہیں لگا اور اس میں کوئی مادی یا انسانی نقصان نہیں ہوا۔

سینٹرل کمانڈ نے بدھ کی صبح ایک بیان میں مزید کہاکہ "امریکہ کی سینٹرل کمانڈ اور ایک اتحادی جہاز یمن میں حوثی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے لانچ کیے گئے دو ڈرونز کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ "یہ طے پایا ہے کہ یہ ہتھیار تجارتی اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے لیے ایک فوری خطرہ ہیں۔ یہ اقدامات جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور بین الاقوامی پانیوں کو امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں"۔

یونانی فوجی جہاز کی دو ڈرونز پر فائرنگ

یونانی محکمہ دفاع کے عملے کے ایک اہلکار نے بدھ کے روز بتایا کہ بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن کے اندر کام کرنے والے ایک یونانی فوجی جہاز نے دو ڈرونز پر فائرنگ کی اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

بحیرہ احمر میں یورپی یونین کا مشن جسے ASPIDS کہا جاتا ہے فروری میں شروع ہوا تھا تاکہ اہم سمندری تجارتی راستے کو یمن کی حوثی تحریک کے ڈرون اور میزائل حملوں سے بچانے میں مدد فراہم کی جا سکے۔

اٹلی نے دو ڈرون مار گرائے

برطانیہ کی طرف سے خطے میں ایک اور بحری جنگی جہاز روانہ کرنے کا اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب ایک اطالوی فوجی جہاز نے منگل کو بحیرہ احمر میں یورپی آپریشن ایسپڈس کے ایک حصے کے طور پر دو ڈرون مار گرائے۔ انہوں نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ "یورپی یونین کے آپریشن ایسپڈس کے فریم ورک کے اندر اپنے دفاع کے اصول پر مبنی جہاز Cayo Dolio نے دو ڈرونز کو مار گرایا‘‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد "نیویگیشن کی آزادی کا دفاع کرنا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب روم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں ڈرون مار گرائے ہیں جب سے پارلیمنٹ نے ایک ہفتہ قبل "ASPEEDS" میں شرکت کی منظوری دی تھی، جس کی آپریشنل کمانڈ اٹلی کے پاس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں