صدر بائیڈن رفح پر اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے: مشیر امریکی قومی سلامتی

امن اور استحکام کا راستہ رفح پر حملے میں مضمر نہیں: جیک سلیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے جس میں شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے ابھی تک اس پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ نہیں دیکھا ہے جس پر بھروسہ کیا جا سکے۔

سلیوان نے کہا کہ بائیڈن کا خیال ہے کہ خطے میں امن اور استحکام کا راستہ "رفح پر حملہ کرنے میں مضمر نہیں ہے، جس میں 1.3 ملین افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہاں کی آبادی کے تحفظ کے قابل اعتماد منصوبے کے بغیروہاں پر آپریشن کی حمایت نہیں کی جائے گی"۔

ایک اور تناظر میں ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے منگل کو کہا کہ بہت سے پیچیدہ مسائل کی مسلسل موجودگی کے باوجود غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کا "اب بھی امکان ہے"۔

انہوں نے امریکی ایوان نمائندگان میں ایک سماعت کے دوران کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ اس طرح کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب قطر نے منگل کے روز تصدیق کی تھی کہ اسرائیل اور حماس غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ میں جنگ بندی کے حوالے سے "معاہدے کے قریب نہیں ہیں"۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "ہم کسی معاہدے تک پہنچنے کے قریب نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دونوں فریقوں کو ایسی زبان پرمتفق ہوتے نہیں دیکھ رہے ہیں جس سے موجودہ تنازع کو حل کیا جاسکے‘‘۔

جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

دونوں فریق جنگ جاری رکھنے کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزام عاید کرتے ہیں اور جنگ بندی میں ناکامی کا ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔

ماجد الانصاری نے زور دے کر کہا کہ "ہم ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ رمضان کے مہینے میں ہم اس میں پیش رفت دیکھیں گے لیکن انہوں نے وضاحت کی کہ وہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے "کوئی ٹائم ٹیبل فراہم نہیں کر سکتے"۔

اسماعیل ھنیہ نے اتوار کے روز ماہ رمضان کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تحریک مذاکرات جاری رکھنے کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کررہی ۔ حماس غزہ میں مستقل جنگ بندی، غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلاء،بے گھر ہونے والوں کی ان کے گھروں کو واپسی اور غزہ کو امداد کی فراہمی اور تعمیر نو چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں