غزہ: امریکہ نے سول کنٹریکٹرز طرز کے پارٹنرز کی مدد لے لی، کمرشل جہازوں کا تحفظ سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ نے بحری راستے سے غزہ میں امداد پہنچانے کے جس غیر معمولی منصوبے کا اعلان کیا ہے اس کی تفصیلات اور ضرورتوں سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اس سلسلے میں اپنے فوجی اتحادیوں اور شراکت داروں سے کہہ سکتا ہے کہ سمندری راستے سے غزہ میں امداد کرنے کے منصوبے کی نجی شعبے کے ذریعے عمل داری کے لیے وسائل فراہم کریں۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اگلے چند ہفتوں میں فنڈز فراہم ہو جاتے ہیں تو یہ امریکی منصوبہ امریکی بحری فوج کی تیرتی ہوئی بندر گاہ سے بھی زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے اور یہ 28 دنوں میں ہی قابل عمل ہو سکے گا۔ پینٹا گون کا کہنا ہے کہ اسے فعال ہونے میں 60 دن لگیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ خود اپنے پاس سے اس منصوبے پر اخراجات نہیں کرے گا۔ بلکہ دو دیگر ذرائع سے فنڈز فراہم کرنے کا بندوبست کرے گا۔ یہ فنڈنگ ایک بین الاقوامی فاؤنڈیشن کی مدد سے مختلف حکومتوں سے وصول کی جائے گی۔ تاہم ان ذرائع نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ حوثیوں کے آئے روز کے حملوں کے دوران اس بحری امدادی منصوبے کا تصور کیوں سامنے لایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی جوبائیڈن انتظامیہ نے ابھی اپنے فوجیوں کو غزہ میں قدم رکھنے سے روکا ہے کیونکہ وہ بندرگاہ کی تعمیر میں ترجیحاً مصروف ہیں۔ اب تک تقریباً دو ہفتوں کے دوران امریکہ سینٹ کام کے مطابق 135000 کھانے فضائی راستے سے غزہ میں گرائے ہیں۔

منگل کے روز قبرص سے بحری راستے سے 200 ٹن کی امدادی کھیپ بھی امریکی تعاون سے پہنچی، اس امدادی کھیپ کے لیے وسائل متحدہ عرب امارات نے فراہم کیے تھے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایک محفوظ بحری راستہ غزہ میں کھول کرامداد پہنچاتا رہے۔

ادھر اقوام متحدہ بار بار خبردار کر رہا ہے کہ غزہ میں فلسطینی بے گھروں کی لاکھوں کی آبادی قحط کی زد میں ہے۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے منگل کے روز 'چیریٹی شپ اوپن آرمز' کو قبرص کی لارناکا بندرگاہ سے باہر جس میں تقریباً 200 ٹن آٹا، چاول اور دوسری اشیا موجود تھیں۔ اب تک قبرص میں مزید 500 ٹن امدادادی سامان جمع ہوچکا ہے جسے جلد غزہ بھیجا جائے گا۔

خیال رہے امریکہ نے فلسطینیوں کی امداد کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے ادارے ' اونروا' کے لیے اپنی فنڈنگ ماہ جنوری سے بند کر رکھی ہے۔ مگر اب امریکہ کا غزہ میں امدادی کام میں سرگرم ہونے کا اچانک فیصلہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔

دو امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس امریکی منصوبے کے تحت ہر روز 200 ٹرکوں کے برابر امدادی سامان کنٹینرز کی مدد سے بحری راستے سے غزہ پہنچ سکے گا۔ یہ جنگ سے پہلے کے دنوں میں روزانہ غزہ پہنچنے والے سامان 500 ٹرکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ ماہ کے لیے اس بحری امدادی منصوبے کی لاگت 200 ملین ڈالر کا تخمینہ ہے۔ جوکہ ماہانہ لاگت 30 ملین ڈالر بنتی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے حوالے سے تجارتی منصوبہ بندی 'فاگ بو' نامی تجارتی کمپنی کر رہی ہے۔ جس میں اسے سابق امریکی حکومتی عہدیداروں، پینٹاگون کے سابق حکام، امریکی سی آئی اے کے سابق عہدیداروں اور اقوام متحدہ میں کام کرنے والے سابق امریکی عہدیداروں کی مدد حاصل ہے۔ تاہم تجارتی کمپنی 'فاگ بو' نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے معذرت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں