فلسطین اسرائیل تنازع

مراکش اسرائیل کے راستے غزہ کے لیے امدادی سامان بھجوانے والا پہلا ملک بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکشی سے بھجوایا گیا امدادی سامان جس میں خوارک اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں منگل کے روز ایک جہاز کے ذریعے اسرائیلی بین گورین ہوائی اڈے پہنچا دی گئی ہیں۔ اس امر کی اطلاع مراکشی کے سفارتی ذرائع نے دی ہے۔

مراکشی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ مراکش پہلا ملک ہے جس نے پہلی بار بے مثال راستہ اختیار کرکے زمین سے غزہ خوراک پہنچانے کا اہتمام کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ مراکشی امداد 40 ٹن وزن رکھتی ہے۔ جسے بذریعہ طیار پہلے اسرائیل کے ہوائی اڈے پر اتارا گیا ہے۔ جہاں سے سے جنگ زدہ اور تباہ شدہ علاقے غزہ میں منتقل کی جائے گی۔ تاہم مراکش کے امدادی سامان پر بات کرنے کے لیے اسرائیلی حکام دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ امدادی سامان کریم شالوم راہداری پر فلسطینی ہلال احمر کے حوالے کر دیا جائے گا۔ یہ بات مراکشی سفارتی ذرائع نے بتائی ہے۔ اس سے پہلے جنگ زدہ علاقے میں عام طور پر امدادی ٹرک مصر کے راستے پہنچانے کی کوشش ہو رہی تھی۔

واضح رہے مراکش اور اسرائیل کے درمیان 2020 سے سفارتی تعلقات شروع کیے گئے ہیں۔ مراکش اس بارے میں کہتا آیا ہے کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات امن کے قیام اور فلسطینیوں کے حق میں ہیں۔ تاہم پانچ ماہ سے زائد پر پھیلی جنگ کے دوران مراکش کی پہلی بڑی خبر سامنے آئی ہے۔

اسرائیل کی غزہ میں لڑی جانےوالی جنگ اب چھٹے ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور غزہ میں 23 لاکھ کے قریب لوگ بے گھر ہو کر بنیادی انسانی ضرورتوں سے بھی محروم ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا تک کی فراہم مشکل ہو چکی ہے اس لیے اقوام متحدہ قحط کا انتباہ کر رہا ہے۔

اب تک کی جنگ میں اسرائیلی فوج نے 31 ہزار 181 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے ، جن میں دوتہائی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ مگر یہ سلسلہ ابھی جاری ہے اور اسرائیل رفح پر اپنی جنگ مسلط کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ اسرائیل جنگ بندی کو تیار نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں