فلسطین اسرائیل تنازع

اٹلی نے غیر انسانی سلوک کے خوف سے فلسطینی کی اسرائیل حوالگی مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک اطالوی اپیل کورٹ نے بدھ کے روز ایک مشتبہ فلسطینی مزاحمت کار کو اسرائیل بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حوالگی کی صورت میں اسے "ظالمانہ، غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک" کا خدشہ ہے۔

عدالت نے اس 36 سالہ شخص کو عنان کمال عفیف یعیش کے نام سے شناخت کیا جو وسطی اٹلی سے گرفتار کیے گئے تین فلسطینیوں میں سے ایک تھا جن پر کسی غیر متعینہ ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام تھا۔

اسرائیل نے یعیش کی حوالگی کے لیے درخواست دی لیکن اس کے وکیل نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی حالتِ زار پر رپورٹیں پیش کرتے ہوئے درخواست کی مخالفت کی۔

ایک تحریری فیصلے میں وسطی لاکیلا شہر میں تین ججوں کے ایک پینل نے دفاع کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حوالگی کی درخواست منظور کی گئی تو یعیش کو "انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے اقدامات" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم انہوں نے فیصلہ دیا کہ اسے اٹلی کی جیل میں ہی رکھا جانا چاہیے کیونکہ انہی الزامات کے تحت پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر سے اس سے تفتیش جاری ہے جن کی بنا پر اسرائیل نے اس کی حوالگی کی درخواست کی تھی۔

سماعت میں ملزم کے خلاف الزام کے مرکزی مواد پر بحث نہیں کی گئی۔ اسرائیل نے بارہا کہا ہے کہ زیرِ حراست افراد اور قیدیوں کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے مطابق سلوک کیا جاتا ہے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ برسرِ پیکار اسرائیل نے یعیش پر مغربی کنارے میں تلکرم پناہ گزین کیمپ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلح گروپ کی مالی معاونت کرنے کا الزام لگایا ہے جسے تلکرم بریگیڈ کہا جاتا ہے۔

اٹلی نے پیر کو کہا کہ گرفتار کردہ تین فلسطینیوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کی تحریک الفتح سے منسلک مسلح گروپ الاقصیٰ شہداء بریگیڈز سے منسلک ایک سیل قائم کیا تھا۔

اس گروپ کو اسرائیل، یورپی یونین اور امریکہ ایک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔

باقی دو ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے کیونکہ اسرائیل نے ان کی حوالگی کی درخواست نہیں کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں