فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ کے لیے بحری راستے امداد کے منصوبے ناکافی ہے: ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خارجہ نے بدھ کے روز باضابطہ طور پر بحری راستے سےغزہ میں امداد کی ترسیل کے منصوبے پر تنقید کی ہے کہ یہ ایک مثبت منصوبہ ہے مگر کافی نہیں ہے

نیٹو کا رکن ترکیہ اسرائیل کے ناقد ممالک میں شامل ہے۔ یہ بھی کہہ چکا ہے کہ غزہ میں جنگ کی وجہ سے نسل کشی کے الزام میں عدالتی کٹہرے میں لانے اور فوجی جنگی کا مطالبہ بھی کرتا رہا ہے۔

اب بدھ کے روز اس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے رپورٹرز کو بریفنگ کے دوران کہا ' ترکیہ نے غزہ میں طبی ضروریات کے لیے 900 ٹن کی امداد بھجوائی ہے، ننھے بچوں کے لیے بہت سی ضرورت کی اشیا بھیجی ہیں۔

ترجمان نے کہا ' ترکیہ غزہ کے لیے انسانی امداد کے ہوائی ڈراپ اور سمندری راستے سے امداد پہنچانے کے منصوبے کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھتا ہے، لیکن سمجھتا ہے کہ وہ بنیادی مسئلے کو حل کرنے کا منصوبہ نہیں۔ سمندر کے ذریعے امداد بھیجنے کی کوشش ایک طرح سے قابل تعریف ہے۔ لیکن اصل مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے اس طرح کے حل پر توجہ مرکوز کرنا کافی نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ترکیہ کے ترجمان نے کہا 'زمینی راستے سے امداد بھیجنا آسان بھی ہے، سستا بھی اور زیادہ موثر ہو سکتا تھا اور اب بھی اسی پر زور لگانا چاہیے۔ واضح رہے اقوام متحدہ بار بار غزہ میں قحط کے خطرے سے آگاہ کر چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں