کافربھی جنتی ہیں،نکاح سے قبل تعلق مباح ہے،سابق مصری مفتی نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے سابق مفتی ڈاکٹر علی جمعہ کے مصری چینل ون پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں گفتگو نے ملک بھر کے عوامی اور مذہبی حلقوں میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔

یکم رمضان کو نشر ہونے والے پروگرام ’نورالدین‘ میں سابق مفتی اعظم ڈاکٹر علی جمعہ نے نوجوانوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے بعض ایسی باتیں کیں جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ غیر مسلم بھی جنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اس دعوے کی قرآن پاک کی دلیل ہے۔

مردو خواتین کےدرمیان شادی سے قبل تعلق کے بارے قرآن وسنت کی روشنی میں جواب دینے کے استفسار کے جواب میں ڈاکٹر جمعہ نے کہا کہ مردو خواتین کا شادی سے قبل تعلق مباح ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ اگرکم عمر لڑکی کسی سے محبت کرے تو اس کے والد کو اس کا پتا چلے تو انہوں نے کہا کہ اگر والد کو اس کا علم ہو تویہ معمولی بات ہے۔

ڈاکٹر علی جمعہ
ڈاکٹر علی جمعہ

کرسمس منانا کیسا ہے؟

لڑکے اور لڑکی کی غیر ازدواجی دوستی اور تعلق کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک گروپ میں اکٹھے باہر جانا ممنوع نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "تمام انسان فی نفسہ مخلوط رہتے ہیں۔ دونوں جنسوں کے درمیان دوستی تب اگر راز داری اور محرمات کے بغیر ہو تو جائز ہے‘‘۔

سابق مفتی اعظم سے پوچھا گیا کہ کرسمس منانا جائز ہے یا حرام؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ جائز ہے کیونکہ یہ انبیاء کا جشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ “نیا سال منانے کا مطلب مسیح کی پیدائش کا جشن منانا ہے جو کہ ایک معجزہ ہے۔ ا حضرت عیسیٰ کی پیدائش کو قرآن نے معجزہ تسلیم کیا اور اسے محبت اور امن کا تہوار قرار دیا۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ "وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا"۔

مفتی صاحب کے ان بیانات پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

نوجوانوں کی رہ نمائی کی ضرورت

بنی سویف یونیورسٹی میں اسلامی تاریخ کے پروفیسر محمد احمد ابراہیم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "اس چھوٹی عمر میں نوجوانوں اور بچوں کے سوالات کا جواب دینا بہت ضروری ہے تاکہ ہم ان کے خیالات کو جان سکیں۔ اور وہ موضوعات جو ان سے متعلق ہیں ان پر رائے دے سکیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "علی جمعہ جیسے عالم دین کو مختص کرنا بھی ان کے ساتھ بات چیت کرنے، ان کے مسائل پر رہ نمائی دینے اور ان کو گمراہیوں اور اندھیروں کے گروہوں کا شکار چھوڑنے کے بجائے ان پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے تاکہ ان کے ذہنوں کو درست سمت لے جایا سکے‘‘۔

ان کا خیال تھا کہ چھوٹے بچوں کے مشکل سوالوں کا سابق مفتی صاحب کا جواب، جنہیں شاید ان کے رشتہ داروں اور گھر والوں سے جواب نہیں ملے، ایک اہم معاملہ ہے جس پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں