’ٹک ٹاک‘ پر امریکی پابندی ڈاکوؤں کے رویے سے ملتی جلتی ہے:چین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ٹک ٹاک کو چینی کمپنی سے علیحدہ کرنے پرمجبورکرنے کے بعد چین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بیرون ملک اپنی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے "تمام ضروری اقدامات" کرے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں ٹک ٹاک پر پابندی ڈاکوؤں کے رویے سے ملتی جلتی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے کہا کہ نیا بل "امریکہ کو منصفانہ مسابقت کے اصولوں اور بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی قوانین کے برعکس رکھتا ہے۔"

پروجیکٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب کوئی کسی دوسرے شخص میں کوئی اچھی چیز دیکھتا ہے اور اسے اپنے لیے لینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ یقینی طور پر ڈاکوؤں کی منطق ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ"امریکہ جس طرح سے TikTok کے ساتھ ڈیل کرتا ہے اس سے دنیا واضح طور پر دیکھتی ہے کہ آیا قوانین اور اصولوں پر مبنی نام نہاد نظام دنیا کی خدمت کرتا ہے یا اپنی خدمت کررہا ہے"۔

"ہم اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے"

درایں اثناء چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے جمعرات کو تصدیق کی کہ ان کا ملک "اپنے جائز حقوق اور مفادات کے مضبوطی سے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا"۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کی کل یعنی بدھ کو اس بل پر ووٹنگ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے بعد سے اس درخواست کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے۔ خاص طور پر چونکہ 352 ارکان کی اکثریت نے اس کے خلاف ووٹ دیا جب کہ 65 نے اس کی مخالفت کی۔

بہت سے قانون سازوں نے تصدیق کی کہ ان کے دفاترکو ایپلی کیشن کے نوعمر صارفین کی طرف سے بڑی تعداد میں کالیں موصول ہوئیں، جنہوں نے نمائندوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش میں اس قانون سازی کی شدید مخالفت کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی تھی جس پر چین کی طرف سے سخت مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں