جرمنی کے شولز اردن اور اسرائیل کے دورے پر غزہ کی مزید امداد کے لیے دباؤ ڈالیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن چانسلر اولاف شولز کے ترجمان نے جمعے کو بتایا کہ وہ ہفتے کے آخر میں اردن اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہیں تاکہ جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی تک مزید امداد پہنچانے کے لیے لابنگ کریں۔

چانسلر کے ترجمان سٹیفن ہیبسٹریٹ نے ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا، "انسانی ہمدردی کی کوششوں کو نمایاں طور پر بہتر کیا جانا چاہیے... یہی بات اسرائیل میں (شولز) کی گفتگو میں واضح ہو گی۔"

ترجمان نے کہا کہ جرمن رہنما رفح میں زمینی حملے کے خلاف اپنے انتباہ کا اعادہ بھی کریں گے۔

شولز ہفتے کے روز اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور اتوار کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرتضوع سے بات چیت کرنے والے ہیں۔

حماس کے سات اکتوبر کو سرحد پار سے حملے کے بعد سے چانسلر کا یہ اسرائیل کا دوسرا دورہ ہے۔

فلسطینی علاقے میں خوراک اور دیگر امداد پہنچانے کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں فضائی اور سمندری راستے بھی شامل ہیں لیکن ثالثین کی جانب سے رمضان کے مقدس مہینے کے لیے جنگ بندی تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد لڑائی جاری ہے۔

ہفتے کے شروع میں جرمنی نے کہا تھا کہ وہ اردن کی طرف سے غزہ کی پٹی میں فضائی راستے سے امداد بھیجنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن میں شامل ہو گا۔ برلن نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سمندر کے ذریعے انتہائی ضروری امداد پہنچانے کی کوششوں کی بھی حمایت کرے گا۔

ہیبسٹریٹ نے زمین پر مزید امداد کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا، "جو ہوائی پل یا سمندری پل کے ذریعے آتا ہے، وہ دوسرا بہترین حل ہے۔"

ہیبسٹریٹ نے کہا، "ہم اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ہم یہ بھی واضح طور پر مطالبہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام عہد پورے کیے جائیں۔"

ہیبسٹریٹ نے حماس سے قید کردہ باقی یرغمالیوں کو رہا کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔

ہیبسٹریٹ نے کہا، "اس سے جنگ بندی کی راہ بھی ہموار ہو گی جسے پھر مزید بات چیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں