حوثی حملوں سے باز نہ آئیں تو ایرانی جہازوں کو ڈبو دیا جائے: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ری پبلیکن سینٹر ڈین سلیون نے کہا ہے کہ اگرحوثی امریکی افواج پر حملے جاری رکھتے ہیں تو امریکہ کو ایرانی بحری جہازوں کو بمباری کر کے سمندر میں ڈبو دینا چاہیے‘‘۔

امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط میں ’الاسکا‘ سے منتخب ریپبلکن سینیٹر نے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ جسے امریکہ دہشت گرد قرار دیتا ہے امریکی حملوں میں اپنی صلاحیتوں کے تباہ ہونے کے باوجود تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آیا اور نہ ہی اسے روکا گیا۔

جاسوسی جہاز

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے حملوں کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ایران کو یہ احساس دلایا جائے کہ اسے اس کی حمایت کے براہ راست نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ تہران کو معلوم ہونا چاہیے کہ حوثی باغی کسی بھی امریکی جہاز پر جو میزائل یا ڈرون داغیں گے وہ اس کے جاسوسی جہازوں کے ڈوبنے کا باعث بنے گا۔

اس نے زور دیا کہ حوثیوں اور ایران کو معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں ان حملوں کی قیمت چکانا پڑے گی۔

بحیرہ احمر میں امریکی ڈسٹرائر: رائیترز
بحیرہ احمر میں امریکی ڈسٹرائر: رائیترز

یہ پیغام اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی حمایت یافتہ یمنی گروپ کی جانب سے امریکی بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے اس اہم شپنگ لین میں بڑھ رہے ہیں جہاں سے عالمی تجارت کا 12 فیصد گذرتا ہے۔

متعدد مبصرین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بحری جہازوں پر حوثی حملے خطے میں موجود ایرانی جہازوں بشمول بہشاد اور ساویز کی رہ نمائی اور انٹیلی جنس معلومات کے بغیر نہیں ہو سکتے۔

19 نومبر سے لے کر اب تک حوثیوں نے اس آبی گذرگاہ میں تجارتی بحری جہازوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے 75 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں