قیدیوں کے معاہدے پر اب بھی بات چیت جاری ہے: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک مصر، اسرائیل اور قطر کے ساتھ قیدیوں کے معاہدے میں خلا کو پُر کرنے کے لیے کام کر رہا اور اس حوالے سے بات چیت اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن قیدیوں کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ توانائی کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ اسرائیل کا دوحہ میں وفد بھیجنا کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان اور ضرورت کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ امریکہ کو رفح کے حوالے سے ایک واضح اور قابل عمل منصوبہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ نے ابھی تک کوئی واضح منصوبہ حاصل نہیں کیا ہے۔ قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا تھا کہ حماس کے اعلان کے بعد اسرائیل ایک وفد دوحہ بھیجے گا۔ حماس نے جنگ بندی کا نیا منصوبہ پیش کردیا ہے۔ حماس کے منصوبے کے جواب میں نیتن یاھو کے دفتر نے کہا ہے کہ حماس کے مطالبات ابھی تک غیر حقیقی ہیں۔ ایک اسرائیلی وفد سکیورٹی کابینہ کے اسرائیلی موقف پر بات چیت کے بعد دوحہ روانہ ہو جائے گا۔

وزیر اعظم کے ترجمان اوفیر گینڈل مین نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے بتایا کہ جنگی کونسل اور منی وزارتی کونسل برائے سلامتی امور کو اس معاملے پر بریفنگ دی جائے گی۔

حماس کا وفد 7 مارچ کو قطری- مصری قیادت میں کئی دنوں تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد بغیر کسی پیش رفت کے قاہرہ سے روانہ ہوا تھا ۔ فریقین نے مذاکرات کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کیا تھا۔ تاہم بعد میں پس پردہ کوششوں کے باعث بات چیت دوبارہ شروع ہوئی۔ مصر، امریکہ اور قطر جنوری سے جنگ بندی کے مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں۔ ثالثوں کو امید ہے کہ رمضان کے مہینے میں قیدیوں کو تبادلہ ہوجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں