افغانستان میں ٹی ٹی پی کے مشتبہ ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملے

کابل نے اسلام آباد کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر حملوں کے ’بہت برے نتائج‘ نکل سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان میں ’العربیہ' کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ پاکستان فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے افغانستان کے اندر فضائی حملوں میں پاکستانی طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ اس حملے کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان کی فوج کی جانب سے فوری طور پر اس پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ مکان افغانستان کے برمل گورنری میں قائم تھا اور پاکستانی طالبان کے لیڈر عبداللہ شاہ کی ملکیت تھا۔ پچھلی رات پاک فضائیہ نے صوبہ خوست کے ساپیرہ کے علاقے میں بھی بمباری کی ہے۔ یہ بھی مشرقی افغانستان کا حصہ ہے۔

بمباری کا نشانہ بننے والی ’افغان مارکیٹ‘: العربیہ
بمباری کا نشانہ بننے والی ’افغان مارکیٹ‘: العربیہ

خیال رہے یہ وہ علاقے ہیں جو پاکستان کی سرحد کے نزدیک ہیں اور کئی پاکستانی قبائل بھی افغانستان کے اندر تک کے علاقے میں رہائش رکھتے ہیں۔ ان فضائی حملوں کے دوران خوست کی ایک تجارتی مارکیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پاک سرحد سے متصل علاقے ہیں اور پاکستانی طالبان یہاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں۔

افغان طالبان کا ردعمل

افغان طالبان کے حکام نے اسلام آباد کو خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین پر حملوں کے ’بہت برے نتائج‘ نکل سکتے ہیں۔ کابل کا یہ بیان مشرقی افغانستان میں پاکستان کے فضائی حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں پانچ خواتین اور تین بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس طرح کے واقعات کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں جو پاکستان کے کنٹرول سے باہر ہوں گے۔‘

بیان میں ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ’تقریباً تین بجے پاکستانی طیاروں نے پاکستان کی سرحد کے قریب صوبہ خوست اور پکتیکا میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت ’ان حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے اور اس غیر سنجیدہ کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور حملہ قرار دیتی ہے۔‘

بیان کے مطابق کسی کو بھی افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے عبداللہ شاہ نامی شخص کو ہدف کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے تاہم وہ پاکستان میں ہے۔‘

اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند افغانستان سے پاکستان میں حملے کر ر ہے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے یہ فضائی حملہ ایسے وقت میں ہوا جب 16مارچ کو شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے حملے اور کلیئرنس آپریشن میں دو افسران سمیت سات فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے جوابی کارروائی کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ ’ملکی میں دہشت گرد کارروائیاں کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیں گے۔ دہشت گردوں سے جوانوں کے بہائے گئے خون کا خراج لیں گے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں