رفح پر حملے سے قبل شہریوں کا انخلا ہوگا: نیتن یاھو، منصوبہ نہیں دیکھا: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ اسرائیل رفح پر اپنے حملے کا آغاز کرے گا تو فلسطینی شہریوں کو وہاں نہیں چھوڑا جائے گا۔ یاد رہے رفح میں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ نیتن یاھو نے جرمن چانسلر اولاف شولز کے ساتھ مغربی القدس میں پریس بیان کے دوران کہا کہ ہم رہائشیوں کو انہیں مقامات پر پھنسا رکھتے ہوئے آپریشن نہیں کریں گے۔ درحقیقت ہم اس کے بالکل برعکس کریں گے۔ ہم انہیں وہاں سے نکلنے کے قابل بنائیں گے۔ شولز نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کا کوئی بھی حملہ علاقائی امن کو "انتہائی مشکل" بنا دے گا۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے اتوار کو "فاکس نیوز سنڈے" پروگرام میں ایک انٹرویو میں اعلان کیا کہ امریکہ نے رفح میں شہریوں کے انخلا کا اسرائیلی منصوبہ "نہیں دیکھا"۔ امداد کی تقسیم کے حوالے سے کربی نے کہا کہ حماس واحد ادارہ نہیں ہے جو اس کی تقسیم میں شریک ہو۔ دیگر امدادی تنظیمیں بھی موجود ہیں جو خوراک، پانی اور ادویات کی تقسیم میں مدد کرتی ہیں۔

قبل ازیں اتوار کو نیتن یاہو نے تصدیق کی تھی کہ اسرائیل بڑے جانی نقصان کے انتباہ کے باوجود رفح میں ایک منصوبہ بند زمینی حملے کے لیے آگے بڑھے گا۔ نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں کہا کہ کوئی بھی بین الاقوامی دباؤ ہمیں جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے سے نہیں روکے گا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کے اتحادیوں کی سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے حوالے سے "کمزور یادداشت" ہے۔ اسرائیل رفح سمیت غزہ کی پٹی پر حملہ جاری رکھے گا۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانیت کے نام پر رفح میں زمینی آپریشن کیلیے آگے نہ بڑھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں