فلسطین اسرائیل تنازع

بائیڈن کو "تمام جنگی اہداف" کے حصول سے متعلق اپنے عزم سے آگاہ کردیا ہے:نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کل سوموار کے روز ٹیلی فون پر بات کی۔ ایک ماہ سے زائد عرصے میں ان کی پہلی بات چیت ہے، کیونکہ غزہ میں خوراک کے بحران اور جنگ کے دوران اتحادیوں میں تقسیم بڑھ رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا کہ "صدر بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے اسرائیل اور غزہ میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت، بشمول رفح کی صورتحال اور غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کی کوششوں پر بات چیت کی"۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے بائیڈن کے ساتھ غزہ کی جنگ کی تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر مزید کہا کہ "ہم نے پوری جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے عزم کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارا ہدف حماس کو ختم کرنا اور غزہ میں یرغمال بنائے گئے تمام مغویوں کو رہا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا کہ دوبارہ غزہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں بنے گا"۔

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد کی فراہمی جو ان کے اہداف اور مقاصد کے حصول میں مدد گار ہو کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بات چیت واشنگٹن میں ریپبلکنز اور اسرائیلی حکام کی جانب سے غصے کا اظہار کرنے کے بعد سامنے آئی ہے جب سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے غزہ میں جنگ سے نمٹنے کے انداز پر نیتن یاہو پر سخت تنقید کی اور اسرائیل سے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔

عہدیداروں نے شومر پر ایک قریبی اتحادی کی انتخابی سیاست میں مداخلت کے خلاف ایک غیر تحریری اصول کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

بائیڈن نے شومر کی انتخابی کال کی توثیق نہیں کی لیکن کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے ایک "اچھی تقریر" کی جو بہت سے امریکیوں کے خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں