بائیڈن کے ہاں کینیڈی خاندان کی دعوت ، تیسرے صدارتی امیدوار رابرٹ کو مدعو نہ کیا

رابرٹ کینیڈی جونیئر نے امریکی صدارتی انتخابات میں تیسری پارٹی کے طور پر اپنی امیدواری کا اعلان کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے سینٹ پیٹرک ڈے منانے کے لیے وائٹ ہاؤس میں کینیڈی خاندان کے 30 سے زائد افراد کی دعوت کی۔ تاہم انہوں نے رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو مدعو کرنے سے انکار کر دیا۔ رابرٹ تیسرے فریق کے طور پر امریکی صدارتی الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں۔

رابرٹ کینیڈی جونیئر کی چھوٹی بہن کیری کینیڈی نے وائٹ ہاؤس میں روز گارڈن کے قریب بائیڈن کے ساتھ ایک بڑے گروپ کی تصویر ایکس پر پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ خواہش کرنا کافی نہیں ہے کہ دنیا بہتر ہو، آپ کو دنیا کو بہتر بنانا ہوگا۔

رابرٹ ایف کینڈی جونیئر
رابرٹ ایف کینڈی جونیئر

بائیڈن نے اس تصویر کو دوبارہ شیئر کیا۔ بائیڈن نے ایکس پر لکھا کہ ایک قابل فخر آئرش خاندان سے دوسرے تک۔ آپ سب کا وائٹ ہاؤس میں واپس آنا اچھا تھا۔ واضح رہے "سینٹ پیٹرک" آئرلینڈ کے مذہبی سرپرست ہیں۔ ان کے نام پر یہ دعوت ہر سال 17 مارچ کو آئرلینڈ اور امریکہ میں منائی جاتی ہے۔ امریکہ کینیڈی خاندان جیسے آئرش نژاد بہت سے شہریوں کا گھر ہے۔

دی ہل ویب سائٹ کے مطابق کینیڈی خاندان نے آزاد امیدوار کے طور پر وائٹ ہاؤس کے لیے اپنی مہم کے دوران رابرٹ کینیڈی جونیئر سے خود کو دور کر لیا۔ رابرٹ کینیڈی ایک سرگرم کارکن اور وکیل ہیں۔ رابرٹ ویکسین کے متعلق سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹس نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی نامزدگی سے نومبر میں بائیڈن کے ووٹ کٹیں گے اور اس سے ٹرمپ کو کامیاب ہونے میں مدد ملے گی۔ توقع ہے کہ کینیڈی 26 مارچ کو اپنے نائب صدارتی امیدوار کا اعلان کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں