فلسطین اسرائیل تنازع

جوبائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ، رفح پر حملے کے منصوبے پر تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کر کے رفح پر حملے کے لیے اسرائیلی منصوبے پر تبادلہ خیال کے علاوہ اسرائیلی جنگ سے تباہ حال غزہ میں انسانی بنیادوں پر سامان کی ترسیل بڑھانے پر بات کی ہے۔

جوبائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والا ٹیلیفونک رابطہ 15 فروری کے بعد ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے غزہ میں جاری جنگ کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ غزہ اور رفح میں انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے صدر جوبائیڈن سے ٹیلیفونک رابطہ سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ 'جنگ سے متعلق اسرائیلی عزائم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ نیز اسرائیلی مقاصد کے حصول کے لی اسرائیلی عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔'

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو رفح میں فوجی آپریشن پر بات چیت کرنے کے لیے انٹر ایجنسی ٹیم واشنگٹن بھیجیں گے۔

سینیٹ رہنما چک شومر نے جمعرات کے روز اپنی تقریر میں نیتن یاہو کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیل میں جلد انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ صدر جوبائیڈن نے چک شومر کی تعریف کرتے ہوئے کہا 'شومر بہت سے امریکیوں کی آواز بنے ہیں۔' خیال رہے چک شومر اسرائیل کے سخت حامی یہودی عہدیدار ہیں۔ تاہم وہ اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے طول پکڑ جانے کو اسرائیل کے حق میں نہیں دیکھتے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہ وقت آگیا ہے کہ اسرائیل میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔

نیتن یاہو نے چک شومر کی تقریر سے متعلق 'سی این این' کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ 'شومر کی تقریر نامناسب تھی۔' کابینہ کے اجلاس میں اتوار کے روز نیتن یاہو نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیلی فورسز رفح میں داخل ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں