یورپی یونین حماس اور اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایک ابتدائی سمجھوتہ طے کیا ہے جس کے تحت مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملہ کرنے والے اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک حماس کے ارکان پر پابندیاں مزید سخت کی جائیں گی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے امریکہ اور برطانیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تشدد میں ملوث اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے برسلز میں وزراء کی میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ’’ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ معاہدہ جلد مکمل عمل درآمد تک جاری رہے گا لیکن یہ ایک سیاسی سمجھوتہ ہے"۔

یورپی یونین نے حماس کے ارکان پر بھی پابندیاں عاید کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یورپی حکام نے بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

یورپی یونین نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر تحریک کی طرف سے شروع کیے گئے حملے کے تناظرمیں حماس کو خاص طور پر نشانہ بنانے کے لیے پابندیوں کا نظام قائم کیا۔

سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے سے پہلے حماس پر نئی پابندیاں عائد کرے گی۔

یہ سلسلہ یورپی یونین میں اسرائیل کے قریبی ممالک کے لیے اہم ہے، جیسے جرمنی، آسٹریا اور جمہوریہ چیک، جو اس بات پر زور دینا چاہتے تھے کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان فرق نہیں کرتے۔

سفارت کاروں نے مزید کہا کہ ہنگری پرتشدد آباد کاروں پر پابندیاں عائد کرنے کا سخت مخالف تھا لیکن حال ہی میں اس نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں