ایندھن کی ضروریات میں اضافہ،بھارت نے نئے 'ایل این جی'درآمدی پلانٹ کی تیاری شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت اپنی ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور استعمال کے پیش نظر قدرتی مائع گیس کا جدید پلانٹ کے ٹرمینل لگانے کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ نیا ٹرمینل ' ایل این جی ' کی درآمد میں مدد گار رہے گا اور اگلی ایک دہائی کے دوران بڑھنے والی ایندھن کی ضروریات پورا کرنے میں کردار ادا کرے گا۔

مائع گیس کی درآمد سے متعلق امور سے آگاہی رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے گجرات سٹیٹ پٹرولیم کارپوریشن نے ماہ اپریل چھارا ٹرمینل کی خریداری کے لیے ٹینڈر کے پراسس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ بتایا گیا ہے بھارتی ریاست گجرات میں یہ سہولت بھارت کی مرکزی سرکار کی مدد سے کی جارہی ہے۔

یہ کافی بڑی مقدار میں سالانہ ایل این جی درآمد کرنے میں بروئے کار آئے گا اور اس سے 5 ملین ٹن ایل این جی کی درآمد کی جاسکے گی۔ بھارت کی کوشش ہے کہ 2030 کے آغاز تک اپنی ایندھن کی ضروریات کے لیے اپنی درآمدی صلاحیت 15 فیصد تک بڑھا سکے۔ یہ صلاحیت اس وقت سات فیصد کے لگ بھگ ہے۔

اس پیش رفت کے ذریعے بھارت میں کوئلے اور تیل وغیرہ کے بطور توانائی ذریعے استعمال پر انحصار کم ہوتا چلا جائے گا۔ خیال رہے بھارت میں اس وقت تک گیس کے لیے درآمدی ٹرمینلز کی تعداد سات جبکہ بلوم برگ کی اطلاع کے مطابق چھارا ٹرمینل کے ساتھ ساتھ سوان انرجی اور جعفر آباد بھی درآمدی گنجائش میں اسی سال سے اضافے کا باعث بن جائیں گے۔

توانائی سے متعلق ذرائع کے مطابق مون سون کے اثرات کی وجہ سے سال 2024 کے دوران چھارا پلانٹ کی درآمدی گنجائش پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکے گی۔ مون سون کے سبب سمندر پر ٹرمینل کی کارکردگی پر موسمی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں