فلسطین اسرائیل تنازع

رفح میں کارروائی پر دباؤ میں اضافہ، اسرائیل کے دفاعی سربراہ امریکہ کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت نے بدھ کو کہا کہ وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ غزہ کی رفح میں طے شدہ کارروائی کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اعلان کیا کہ ایک وفد "امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر" طے شدہ حملے پر بات چیت کے لیے واشنگٹن کا دورہ کرے گا جس کی امریکہ مخالفت کرتا ہے۔

حماس کے سات اکتوبر کے بے مثال حملے کے جواب میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن کے پہلے دورے کے دوران گیلنٹ پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ آسٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں - لیکن کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ وہ "حماس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں ہونے والی پیشرفت، فورس کی تشکیل، انسانی مسائل اور دو طرفہ فوجی تعاون کے امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔"

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں حماس کو ختم کرنے کے لیے رفح میں آپریشن ضروری ہے لیکن شہر میں 15 لاکھ شہریوں جن میں سے بہت سے غزہ کے دوسرے حصوں سے بے گھر ہوئے ہیں، کی موجودگی نے بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتوں اور علاقے میں انسانی ہمدردی کے بحران کے مزید گہرے ہو جانے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔

بائیڈن نے پیر کو کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے کہا ہے کہ وہ ایک ٹیم واشنگٹن بھیجیں تاکہ رفح میں مکمل فوجی آپریشن سے بچنے کے طریقے پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ تزویراتی امور کے وزیر رون ڈرمر اور قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنیگبی درخواست کردہ بات چیت کریں گے لیکن یہ نہیں بتایا کہ وفد کب واشنگٹن روانہ ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں