فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں جنگ بندی معاہدہ اہم، مگر اس سے پہلے کئی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے غزہ میں جنگ بندی کے لئے ایسے وقت میں ایک نئی بات کہی ہے جب ایک توقف کے بعد اسرائیلی موساد چیف از سر نو جنگ بندی کے لئے ثالث ملکوں کے ساتھ رابطے میں آچکے ہیں۔ نیز امریکہ نے بھی جنگ بندی کے لئے تازہ تجاویز پیش کی ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون تھائی لینڈ کے دورے کے موقع پر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' روئٹرز ' سے گفتگو کر رہے تھے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس سے پہلے تھائی ائیر بیس کا دورہ کیے اور تھائی لینڈ کے لئے برطانوی فوجی تعاون اور سٹریٹجک تعلقات کے ایشو کے سلسلے تھائی قیادت سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے میانمار میں خانہ جنگی اور فوج کے نشانے پر آئے طبقات کے امور پر بھی بات کی اور متاثرہ عوام کو امداد پہنچانے لئے سنجیدگی ظاہر کی۔

غزہ جہاں پچھلے تقریبا چھ ماہ میں لگ بھگ 32 ہزار فلسطیی جن میں تقریبا دو تہائی عورتیں اور بچے ہیں کے لیے جنگ بندی کے سوال پر کہا' حماس کا سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیلیوں کو یرغمال بنانا غیر انسانی عمل تھا۔ اب فلسطینیوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک ہی راستہ ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے جنگجو مستقبل کی تصویر سے باہر کر دیے جائیں۔

انہوں نے کہا تھائی ائیر بیس پر ' روئٹرز' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا' یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جنگ بندی کو مستقل حیثیت حاصل ہو جائے اور آئندہ ایسا مسئلہ نہ پیدا ہو۔

ڈیوڈ کیمرون نے ایک سوال پر کہا ' ہم سمجھتے ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی ضروری ہے مگر اس کے لیے ہم تبھی کچھ کر سکتے ہیں جب جنگ بندی سے پہلے بہت ساری شرائط پوری ہوجائیں۔ اس پس منظر میں حماس کی قیادت کو غزہ سے نکالا جانا ضروری ہے ۔نیز حماس کا دہشت گردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
امریکہ کی تازہ تجاویز کے انے کے بعد کیمرون کا یہ موقف اہم ہے۔ انٹونی بلنکن بھی سات اکتوبر کے بعد چھٹی بار خطے کے دورے کے پہلے مرحلے پر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔
برطانوی وزیر خارجہ نے میانمار کے
وضوع پر بات کرتے ہوئے کہا ' میانمار کی خانہ جنگی اب کثیر جہتی ہو چکی ہے۔ اس لیے ضروری ہے سابقہ نوابادیاتی حکمران برطانیہ اور آسیان اس معاملے کی طرف دیکھیں اور خونی خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں