نیتن یاہو کا چک شومر کی تقریر کے بعد ریپبلکن سینیٹروں سے مخاطب ہونے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے چک شومر کی تقریر کے بعد امریکہ کے ری پبلکن سینیٹرز سے گفتگو کر کے رفح میں امکانی جنگ اور غزہ کے بارے فوجی حکمت عملی پر اعتماد میں لینے کو ضروری خیال کیا ہے۔ اس سلسلے میں ویڈیو لنک پر نیتن یاہو کے ری پبلکنز سے مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

نیتن یاہو جن کے بارے میں تصور کیا جا رہا ہے کہ جو بائیڈن ان کے لیے اپنی سوچ میں تبدیلی لا رہے ہیں تاہم جو بائیڈن کو اس کا سنہری موقع سینیٹ میں اکثریت کے حامل چک شومر کی تقریر نے فراہم کیا۔ چک شومر نے اس تقریر میں نیتن یاہو کی پالیسی پر تنقید کی اور اسرائیل میں فوری نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا۔

صدر جو بائیڈن نے چک شومر کی اس تقریر کی تائید کر دی جبکہ نیتن یاہو نے اس تقریر کو انتہائی غیر موزوں اور غیر مناسب قرار دیا۔ بظاہر امریکی انتظامیہ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلاف کی فضا بن رہی ہے، جس کے لیے نیتن یاہو نے یہ بھی کہہ دیا ک اسرائیل 'بنانا ریپبلک' نہیں ہے۔

تاہم ابھی تک امریکہ اور جو بائیڈن نے سرکاری طور پر اسرائیل کے بارے میں کوئی ایسا اقدام نہیں کیا ہے جو امریکہ کی اسرائیل اور غزہ کی جنگ کے بارے میں تبدیلی کا حقیقی یا عملی اشارہ سمجھا جائے۔

امریکی سینیٹ میں ری پبلکن کانفرنس کے ایک ترجمان نے اس بارے میں کہا ہے' سینیٹرز نے نیتن یاہو کو رفقا سے خطاب کی دعوت دی ہے۔ واضح رہے شومر سینیٹ میں اکثریت رکھنے والے اور یہودیوں میں اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز شخصیت کے طور پر معروف ہیں۔ انہوں نے جمعرات کے روز ایک غیر معمولی تقریر کی تھی۔

شومر سالہا سال سے جیوش کانگریس کے اتحادی ہیں۔ مگر انہوں نے غزہ کی جنگ کے سلسلے میں نیتن یاہو کو کہا ہے کہ شہرہوں کی ہلاکتوں سے زیادہ سے زیادہ بچا جائے۔ نیز غزہ کے عوام تک امدادی سامان کی ترسیل آزادانہ ہونے دی جائے۔ اسی تقریر میں انہوں نے اسرائیل کو مشکل صورت حال سے نکالنے کے لیے نئے عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا۔ یہ سب باتیں نیتن یاہو کے لیے قابل قبول نہ ہو سکتی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں