ٹرمپ کے داماد کشنر کی غزہ کی 'برلبِ ساحل جائیداد' کی 'قیمتی' استعداد کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے سابق سینئر مشیر اور ان کے داماد جیریڈ کشنر نے غزہ کی "برلبِ ساحل جائیداد" کی "بہت قیمتی" استعداد کی تعریف کی اور تجویز دی کہ اسرائیل کو اس علاقے کو "صاف" کرتے وقت شہریوں کو ہٹا دینا چاہیے۔

کشنر نے 15 فروری کو ایک انٹرویو میں کہا، "غزہ کی برلبِ ساحل جائیداد بہت قیمتی ہو سکتی ہے اگر لوگ روزگار کی تعمیر پر توجہ دیں۔"

یہ انٹرویو مڈل ایسٹ انیشی ایٹو کے یوٹیوب چینل پر پوسٹ کیا گیا تھا جو کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کا ایک پروگرام ہے اور دی گارڈین نے منگل کو پہلی بار اس کی اطلاع دی۔ "اگر آپ اس تمام رقم کے بارے میں سوچتے ہیں جو اس سرنگ کے نیٹ ورک اور تمام جنگی سازوسامان میں صرف ہوئی، اگر وہ تعلیم یا اختراع میں صرف ہوتی تو کیا کچھ کیا جا سکتا تھا؟"

کشنر نے مزید کہا، "وہاں یہ تھوڑی سی بدقسمتی کی صورتِ حال ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اسرائیل کے نقطۂ نظر سے میں لوگوں کو باہر نکالنے اور پھر اسے صاف کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔"

انٹرویو لینے والے مڈل ایسٹ انیشی ایٹو فیکلٹی کے سربراہ اور ہارورڈ کے پروفیسر طارق مسعود نے کشنر کو بتایا، "عربوں کی طرف سے حقیقی خوف ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ ان میں سے بہت سے لوگوں سے بات کریں گے جو یہ سوچتے ہیں کہ ایک بار جب غزہ کے لوگ غزہ چھوڑ دیں گے تو نیتن یاہو کبھی انہیں دوبارہ وہاں داخل نہیں ہونے دے گا۔" کشنر نے جواب دیا، "شاید، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ اس وقت غزہ میں بہت کچھ باقی ہے۔" اس کے بعد انہوں نے مزید کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ اس کے بعد وہاں واپس جائیں۔"

ان کے تبصروں کے "منتخب حصوں کا غلط استعمال کرنے والوں" کو منگل کو ایکس پر جواب دیتے ہوئے کشنر نے پوری بات چیت کی ایک ویڈیو پوسٹ کی اور کہا کہ وہ اپنے تبصروں پر قائم ہیں "اور یقین رکھتے ہیں کہ فلسطینی عوام کی زندگیوں میں بہتری تبھی آئے گی جب عالمی برادری اور ان کے شہری ان کی قیادت سے جواب طلبی کریں گے۔"

تقریباً 1.5 ملین بے گھر فلسطینی غزہ کے جنوبی قصبے رفح میں پناہ گزین ہیں جبکہ اسرائیل سات اکتوبر کے مہلک حملے کے بعد حماس کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 30,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور 70,000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر مسعود نے کشنر سے پوچھا کہ کیا ایک فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا اچھا خیال ہوگا جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ کشنر نے وضاحت کی کہ "میرے خیال میں فلسطینی ریاست کو فعال طور پر تسلیم کرنا بنیادی طور پر اس دہشت گردی کی کارروائی کا صلہ ہو گا جس کا ارتکاب اسرائیل کے خلاف کیا گیا تھا۔"

پیر کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بائیڈن انتظامیہ کے اہلکاروں کے ساتھ ممکنہ رفح آپریشن پر بات چیت کے لیے اسرائیلی حکام کی ایک ٹیم واشنگٹن بھیجنے پر اتفاق کیا۔

اس طرح کے مذاکرات کرنے پر اتفاق اس وقت ہوا جب صدر جو بائیڈن اور نیتن یاہو نے پیر کو بات کی جو ایک ماہ سے زیادہ عرصے میں ان کی پہلی بات چیت ہے کیونکہ وائٹ ہاؤس کے مطابق غزہ میں خوراک کے بحران اور جنگ کے دوران اسرائیل کے طرزِ عمل پر اتحادیوں کے درمیان تقسیم بڑھ گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ یہ مذاکرات آئندہ دنوں میں ہوں گے اور توقع ہے کہ اس میں فوجی، انٹیلی جنس اور انسانی ہمدردی کے ماہرین شامل ہوں گے۔

گذشتہ مہینے انٹرویو میں کشنر نے یہ بھی تجویز کیا کہ شہریوں کو رفح سے نکال کر ممکنہ طور پر مصر میں لانا "صحیح سفارت کاری کے ساتھ" ممکن ہو سکتا ہے جو جنوبی اسرائیل میں صحرائے نیگیو کے لیے بھی ایک منصوبہ پیش کرتے ہیں۔

مزید برآں کشنر نے مشورہ دیا کہ وہ "صرف نیگیو میں کچھ بلڈوز کریں گے، میں لوگوں کو وہاں منتقل کرنے کی کوشش کروں گا" اور مزید کہا: "میں جانتا ہوں کہ ایسا کرنا مقبول نہیں ہوگا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسا کرنا ایک بہتر آپشن ہے۔ تاکہ آپ اندر جا کر کام ختم کر سکیں۔"

کشنر نے مزید کہا کہ "میرے خیال میں شہریوں کو جانی نقصان سے بچانے کی کوشش میں اسرائیل اپنے راستے سے بہت زیادہ ہٹ گیا ہے جتنا کہ دیگر ممالک کرتے (اگر وہ اسرائیل کی جگہ ہوتے)۔"

اسرائیل-حماس جنگ پر بحث اس سال کے امریکی صدارتی انتخابات کے ایک بڑے موضوع کی شکل اختیار کر گئی ہے جس نے بائیڈن اور ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ان کی اپنی جماعتوں کے درمیان بھی تقسیم کی لکیریں کھینچ دی ہیں۔

غزہ میں جنگ سے نمٹنے کے طریقے پر ڈیموکریٹس کی نیتن یاہو پر بڑھتی ہوئی تنقید کے بارے میں سوال پر پیر کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جو یہودی ڈیموکریٹس کو ووٹ دیتے ہیں وہ "اسرائیل سے نفرت" کرتے ہیں اور "ان کے مذہب" سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کی اس بات نے وائٹ ہاؤس اور یہودی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

انہوں نے منگل کے روز فلوریڈا میں نامہ نگاروں کو بتاتے ہوئے ان تبصروں کو دوگنا کردیا کہ "ڈیموکریٹس یہودیوں کے بہت شدید مخالف رہے ہیں۔" اسی دوران سینیٹر چک شومر نے سینیٹ کے فلور سے ایک تقریر کرتے ہوئے ٹرمپ کے تبصروں کو "صریح کراہت انگیز اور یہودیوں کو درپیش سام دشمنی کی درسی کتاب کی ایک مثال" قرار دیا۔

کشنر نے ٹرمپ انتظامیہ میں شرقِ اوسط میں امن کی کوششوں سمیت متعدد مسائل اور پالیسیوں پر کام کیا۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اگر ٹرمپ - جو گذشتہ ہفتے جی او پی کے فرضی نامزد امیدوار بنے تھے - 2024 کے صدارتی انتخابات جیت جاتے ہیں تو وہ (کشنر) وائٹ ہاؤس میں دوبارہ شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتے، کشنر نے گذشتہ مہینے کہا تھا کہ وہ اپنے سرمایہ کاری کے کاروبار اور فلوریڈا میں عوام کی نگاہوں سے دور اپنے خاندان کے ساتھ رہنے پر توجہ مرکوز کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں