کینیڈا اسرائیل کو ہتھیاروں کی ترسیل روک رہا ہے: حکومتی ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا کے ایک سرکاری ذریعے نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا، کینیڈا اسرائیل کو اپنے ہتھیاروں کی ترسیل روک رہا ہے۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف حماس کے مہلک حملوں کے بعد سے اوٹاوا نے صرف "غیر مہلک" مثلاً مواصلاتی آلات اسرائیل کو برآمد کیے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ جنوری کے بعد سے کوئی برآمدات نہیں ہوئی ہیں۔

ریڈیو کینیڈا کے مطابق 2021 میں 26 ملین کینیڈین ڈالر کی ترسیل کے بعد اسرائیل تاریخی طور پر کینیڈا کے ہتھیاروں کی برآمدات کرنے میں سرِفہرست رہا ہے جس کے بعد 2022 میں اسرائیل کو 21 ملین کینیڈین ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان برآمد کیا گیا۔

اس لحاظ سے اسرائیل کینیڈا کے ہتھیاروں کی برآمدات کے 10 سرِفہرست وصول کنندگان میں آتا ہے۔

مارچ میں، وکلاء اور کینیڈا کے فلسطینی نژاد باشندوں کے اتحاد نے کینیڈا حکومت کے خلاف ایک شکایت درج کروائی جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمدات معطل کرنے کی کوشش میں کہا گیا کہ اوٹاوا ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

پیر کو کینیڈا کی پارلیمنٹ نے ایک غیر پابند قرار داد منظور کی جس میں عالمی برادری سے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

سات اکتوبر کو حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے بعد غزہ کی خونریز ترین جنگ شروع ہوئی جس کا اسرائیل نے حماس کے خلاف ایک مسلسل جارحیت سے جواب دیا ہے۔ اس کارروائی میں غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق کم از کم 31,819 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے اگرچہ اسرائیل کے حقِ دفاع کی توثیق کی ہے لیکن اس کے خلاف بڑھتا ہوا تنقیدی مؤقف اختیار کیا ہے کیونکہ غزہ میں شہری ہلاکتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں